خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں میں فرنیچر فراہم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر خزانہ، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹریز کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی کے تحت تمام سرکاری اسکولوں میں سو فیصد بچوں کو فرنیچر فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر خزانہ، چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹریز کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ علی امین گنڈاپور نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سرکاری اسکولوں میں کوئی بھی بچہ فرش پر نہیں بیٹھے گا، اگلے مالی سال کے دوران تمام سرکاری اسکولوں کے ہر بچے کو فرنیچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں فرنیچر کی فراہمی کے لئے جتنے بھی فنڈز درکار ہونگے وہ ترجیحی بنیادوں پر فراہم کریں گے، تعلیم کے لئے سازگار ماحول بنیادی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو فرنیچر، واش رومز اور پینے کے پانی کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے، ان بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں میں تدریس کے معیار کو بھی بہتر بنانے کے لئے خصوصی پروگرام شروع کیا جائے، اس مقصد کے لئے اساتذہ کی جدید ٹریننگ کا انتظام کیا جائے، نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لئے جدید ٹریننگ لازمی قرار دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرکاری اسکولوں میں خیبر پختونخوا کی فراہمی کے لئے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔