سمبڑیال ضمنی الیکشن: پی ٹی آئی نے دھاندلی کا الزام عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سیالکوٹ کے حلقہ پی پی 52 کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کردیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ دھاندلی کے لیے کل رات سے ہی آر او آفس کے باہر کنٹینرز کی دیواریں بنا دی گئی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ ضمنی الیکشن کے موقع پر ہمارے پولنگ ایجنٹوں پر تشدد کیا گیا، ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو اسٹیشنوں کے اندر نہیں جانے دیا جارہا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ ضمنی الیکشن کے موقع پر کوئی چیک اینڈ بیلنس پالیسی نظر نہیں آئی، جو ہیلپ لائنز دی گئی تھیں انہیں صبح سے ہی مصروف رکھا گیا۔
واضح رہے کہ ضمنی الیکشن کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما حنا ارشد وڑائچ کو برتری حاصل ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ فاخر نشاط گھمن دوسرے نمبر پر ہیں۔
مزید پڑھیں:روس پر ڈرونز کی بارش، یوکرین کا 40 جنگی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ضمنی الیکشن پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔