پی ٹی آئی امیدوار کا ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا الزام، نتائج تسلیم کرنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
سمبڑیال(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی پی آئی کے امیدوار نے پی پی 52 ضمنی الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق رہنما پی ٹی آئی فاخر نشاط نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ مکمل ہونے سے پہلے ہی فارم 45 بنا لئے گئے، اس بار طریقہ واردات بدل دیا گیا اور فارم 45 اپنی مرضی کے بنائے گئے، دھاندلی کے یہ نتائج ہم تسلیم نہیں کریں گے، ہم قیادت کے ساتھ بیٹھ کر اگلا لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔
واضح رہے کہ پی پی 52 کے ضمنی انتخاب کے تمام 185 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی حنا ارشد وڑائچ 78419ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہیں۔
پی پی 52 ضمنی الیکشن: مسلم لیگ ن کی حنا ارشد وڑائچ نے میدان مار لیا
پی ٹی ائی کے حمایت یافتہ فاخر نشاط گھمن 40037 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے، 185 پولنگ سٹیشنز پر مسلم لیگ ن کی امیدوار حنا ارشد وڑائچ کو 38382ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل ہوئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔