سیالکوٹ(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی پی 52 سمبڑیال میں ضمنی الیکشن میں ن لیگ نے میدان مار لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی پی 52 کے ضمنی انتخاب کے تمام 185 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج موصول ہوگئے، مسلم لیگ ن کی حنا ارشد وڑائچ  78 ہزار 702 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہیں۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ فاخر نشاط گھمن 39 ہزار 18 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، 185 پولنگ سٹیشنز پر مسلم لیگ ن کی امیدوار حنا ارشد وڑائچ کو 39 ہزار 684 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل ہوئی، ریٹرننگ آفیسر نے فارم 47 جاری کر دیا۔

ارشد ندیم کی وطن واپسی ، لاہورایئرپورٹ پر شاندار استقبال،  میڈیا سے گفتگو میں کس ٹارگٹ کا ذکرکیا ؟ جانیے

ضمنی الیکشن کیلئے ووٹنگ کا عمل صبح 8 سے شام پانچ بجے تک جاری رہا اور اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم دس منٹ کیلئے الیکشن کمشنر کی جانب سے ووٹنگ روکی گئی تھی۔

ضمنی الیکشن کے دوران دن بھر پولنگ سٹیشنز پر گہما گہمی رہی، دونوں پارٹیوں کے کارکنوں میں جھگڑا بھی ہوا اور نعرے بازی بھی چلتی رہی، اس دوران دھاندلی کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے۔

حلقے میں 2 لاکھ 96 ہزار 563 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن کیلئے 185 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے تھے اور ان میں سے 11 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

تحریک انصاف نے تحریک چلائی تو کیا ہو گا ۔۔۔؟ رانا ثناء اللہ کھل کر بول پڑے

حنا ارشد وڑائچ نے اپنی جیت کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اپنے مرحوم والد کے نام کر دیا، جیت پر حنا ارشد وڑائچ کے گھر پر جشن کا سماں رہا، کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے اور آتش بازی کی۔

واضح رہے کہ یہ نشست مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی چودھری ارشد وڑائچ کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: حنا ارشد وڑائچ پولنگ سٹیشنز ضمنی الیکشن مسلم لیگ ن

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن