اسلام آباد کی وی آئی پی مویشی منڈی دیگر منڈیوں سے کیسے مختلف ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
عیدالاضحیٰ کے موقع پر ویسے تو شہروں میں مختلف مویشی منڈیاں لگتی ہیں جہاں جاکر جانور خریدے جاتے ہیں تاہم خوبصورت اور بھاری بھرکم جانور کی قربانی کرنے والوں کے لیے ایک منفرد وی آئی پی منڈی اسلام آباد کے سیکٹر آئی 12 میں لگائی گئی ہے۔
اس منڈی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف رات کو 9 بجے رونق لگنا شروع ہوتی ہے جو رات 2 بجے تک جاری رہتی ہے۔ اس میں جانور صرف چند گھنٹوں کے لیے ہی لائے جاتے ہیں اور فروخت نہ ہونے کی صورت میں انہیں ان کے مالکان واپس لے جاتے ہیں۔ اگلی شب پھر منڈی سج جاتی ہے جبکہ دن کے اوقات میں بند رہتی ہے۔
وی آئی پی منڈی میں بڑے بڑے کیٹل فارمرز نے اپنی اپنی کنوپیاں لگائی ہوتی ہیں جہاں جانوروں کو تیار کرکے نہایت اچھے انداز میں ڈسپلے کیا جاتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے وہ بیلوں کا کوئی شوروم ہو۔
کیٹل فارم ایسوسی ایشن کے صدر شیخ وہاب نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وی آئی پی منڈی کا انعقاد فیملیز اور بچوں میں قربانی کے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منڈی میں بہت پُرسکون ماحول ہے، فیملیز گاڑی میں یا پیدل منڈی کے اندر آسکتی ہیں اور جانور پسند کرسکتی ہیں، یہ کراچی والا ماحول دینے کی کوشش کی گئی ہے، اس منڈی میں جانوروں کی بہت اچھی فتح جنگی نسل کو لایا جاتا ہے، اور شوقین لوگ اسے مہنگے داموں خرید کر قربان کرتے ہیں۔
کیٹل فارم ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ چوہدری عطاالرحمان جٹ نے کہا کہ باقی منڈیوں میں گندگی ہوتی ہے، مٹی اور گرد ہوتی ہے جبکہ یہاں روزانہ صفائی کی جاتی ہے، اس منڈی میں آکر انسان کو گندگی کا احساس نہیں ہوتا اور اس اچھے ماحول میں خریداری کرنا آسان ہوتا ہے۔
منڈی میں بیل فروخت کرنے والے احمد کیٹل فارم کے مالک شیخ ارحم نے کہا کہ اس منڈی کی خاص بات یہ ہے کہ فیملیز یہاں آکر تسلی سے جانوروں کو دیکھنے اور پسند کرنے کے بعد خریداری کرتی ہیں، ہمیں بھی اس منڈی میں سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جس وجہ سے ہم باآسانی اپنے جانور فروخت کرتے ہیں۔
جانور کی خریداری کے لیے اس وی آئی پی منڈی کا رخ کرنے والے رضا پراچہ نے وی نیوز کو بتایا کہ ایسی منڈیوں کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں صاف ستھرا ماحول ہوتا ہے، گاڑی میں بھی آپ منڈی آکر خریداری کرسکتے ہیں اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آپ کو اس منڈی میں سب سے اچھے بیل مل جاتے ہیں۔
گزشتہ 10 سالوں سے جانور فروخت کرنے والے حاجی بابر نے وی نیوز کو بتایا کہ وی آئی پی منڈیوں کے قیام کے بعد ان کے لیے جانوروں کی فروخت میں بہت آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں، اس منڈی میں شوقین لوگ آتے ہیں تو وہ جانور کو اس کے میعار کا ریٹ لگاتے ہیں، وی آئی پی منڈی میں آنے والے جانوروں کے ریٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان جانوروں کی تیاری پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، دودھ، گھی، گندم وغیرہ دیا جاتا ہے جبکہ دیگر لوگ اپنے جانوروں کو صرف سبز چارہ دیتے ہیں اس لیے ان جانوروں کے ریٹ انتہائی کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی پی منڈی اس منڈی میں ئی پی منڈی جاتے ہیں کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔