پاکستان ایکسپریس ٹرین کو حادثہ کیسے پیش آیا؟ ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
لاہور:
ملتان ڈویژن میں مبارک پور کے قریب کراچی سے راولپنڈی جانے والی پاکستان ایکسپریس ٹرین کے حادثے کی ابتدائی جوائنٹ سرٹیفیکیٹ رپورٹ سامنے آگئی۔
رپورٹ کے مطابق بوگی کی مینٹیننس نہ ہونے سے بوگی ہاٹ ایکسل ہوگئی۔ ہاٹ ایکسل ہونے سے پن ٹوٹ گئی جس سے بوگی کے نیچے سے پوری ٹرالی باہر نکل گئی۔
ٹرین حادثے سے ریلوے کی 2 بوگیوں اور ٹریک کو بھی نقصان پہنچا تاہم ٹرین بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔ حادثے کے بعد اپ اور ڈاؤن ٹریک بند ہوگئے جس کے سبب متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ریلوے حکام نے ٹرین حادثے کی تحقیقات کے لیے گریڈ 19 کے 3 افسروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرینوں کا پٹریوں سے اترنا اور ان مینڈ لیول کراسنگ پر کئی حادثے رونما ہو چکے ہیں، جس کے سبب مسافر بھی کم ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔