اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا ہے جس میں بجٹ کے خدوخال اور مجموعی ترقیاتی بجٹ تخمینے کی منظوری دی جائے گی۔

نجی ٹی وی کو وزارت خزانہ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جمعرات 5 جون کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس میں مجموعی طور پر 3795 ارب روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وزیراعظم شہباز شریف کو بجٹ 26-2025 سے متعلق بریفنگ دینے گے۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے اور آئندہ بجٹ کے خدوخال کی منظوری دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل آئندہ مالی سال کے لیے جس 3795 ارب کے مجموعی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے گی۔ اس میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے لیے 1188 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور ہو سکتا ہے۔

آئندہ مالی سال میں سندھ کے لیے 877 ارب، خیبر پختونخوا کے لیے 440 ارب اور بلوچستان کے لیے 280 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ منظور کیے جا سکتے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ترقیاتی بجٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شراکت داری کی منظوری ہوگی اور کونسل 5 سالہ منصوبہ بندی کی بھی منظوری دے گی۔

آئندہ مالی سال کے لیے 4.

2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دیے جانے کے ساتھ زراعت کی گروتھ کا ہدف 4.5 فیصد منظور ہو سکتا ہے جب کہ صنعتی گروتھ کا ہدف 4.3 فیصد رکھنے کی بھی منظوری دی جائے گی۔

اجلاس میں خدمات کے شعبے کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا جاسکتا ہے۔ برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 65 ارب ڈالر جب کہ ترسیلات زر کا ہدف 39 ارب ڈالر مقرر کرنے کی بھی منظوری دی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: قومی اقتصادی کونسل منظوری دی جائے گی کی منظوری دی ترقیاتی بجٹ مالی سال کا ہدف کے لیے

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی