Express News:
2026-07-24@09:38:51 GMT

سفارتی محاذ پر نئی صف بندی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

ایک بات طے ہے کہ مستقبل کی پاک بھارت اصل جنگ کا منظر نامہ سفارتی محاذ پر ہوگا۔حالیہ کشیدگی کے جو نتائج ملے ہیں اس نے بھارت کئی محاذوں پر پسپائی پر مجبور کردیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نریندر مودی حکومت کا طرز عمل پاکستان مخالفت میں زیادہ شدت پسندی کا نظر آتا ہے۔

بھارت کی کوشش ہوگی کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے مسائل میں الجھائے رکھے تو دوسری طرف بھارت عالمی دنیا میں سفارت کاری کے محاذ پر پاکستان کی مخالفت میں ایک جارحانہ حکمت عملی کو آگے بڑھائے ۔اس کی حکمت عملی میں ایک طرف پاکستان کو عالمی دنیا میں بطور ریاست دہشت گردی کی سرپرستی کے ساتھ جوڑا جائے تو دوسری طرف پاکستان میں پہلے سے جاری اپنی پراکسی جنگ میں شدت پیدا کی جائے،یوں وہ پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کروانا چاہتا ہے۔

بھارت کو حالیہ مہم جوئی میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس کا اپنی طاقت کے بارے میں جو احساس تھا وہ کمزور ثابت ہوا ہے۔ دنیا نے بھارت کے اس الزام کو بھی قبول نہیں کیا کہ پہلگام کے واقعہ میں پاکستان ملوث ہے۔ اسی طرح امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی جو پیش کش کی ہے وہ یقینی طور پر اسے قبول نہیں ہوگی۔

امریکی ثالثی کی پیش کش نے پاکستان کے لیے مسئلہ کشمیر پر سفارت کاری کا ایک نیا دروازہ کھولا ہے جس پر بھارت کی سطح پر شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے عالمی سفارت کاری میں ایک نرم گوشہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔یہ ہی وجہ ہے بھارت کی داخلی سیاست میں نریندر مودی کو کافی دباؤ کا سامنا ہے۔

مستقبل میں دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی مخالفت میں بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا۔بھارت کی کوشش ہوگی کہ وہ دنیا کی توپوں کا رخ پاکستان مخالفت کی بنیاد پر سامنے لایا جائے۔ پاکستان کو بھارت کے ایجنڈے سے خبردار بھی رہنا ہے اور خود کو بھی اس ہنگامی سفارتی جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔

ایک جنگ ابلاغ کے میدان میں میڈیا سمیت ڈیجیٹل میڈیا پر بیانیہ کی تشکیل اور پھیلاؤ کی صورت میں دیکھنے کو ملے گی۔اگرچہ اس بات کے امکانات محدود ہیں کہ دونوں ممالک میں کوئی بڑی جنگ ہوگی۔لیکن جنگ کے نام پر ایک سیاسی بحث و مباحثہ اور شدت پسندی دیکھنے کو ملے گی۔

اگر کوئی سمجھ رہا ہے کہ بھارت حالیہ پسپائی کے بعد خاموش ہوکر بیٹھ جائے گا تو ایسا ممکن نہیں بلکہ اس کی مہم جوئی کی مختلف شکلیں ہم واضح طورپر دیکھ سکیں گے۔اس لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ تو ٹلی ہے مگر خطرہ ختم نہیں ہوا اور بھارت مسلسل ہم پر اس جنگ کے خطرات کو نمایاںکرتا رہے گا۔

پاکستان نے حالیہ بھارت کی مہم جوئی میں جو شاندار کامیابی حاصل کی ہے اس پر کسی جذباتیت اور خوش فہمی کا شکار نہیںہونا چاہیے اور نہ ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ بھارت کی جارحیت ختم ہوگئی یا اسے ناکامی ہوگئی ہے۔اس لیے ہمیں دیگر شعبوںکے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے محاذ پر کچھ نئی حکمت عملی اور نئے کارڈ سجانے ہونگے۔

اس سفارتی حکمت عملی میں ہمیں جوش بھی دکھانا ہے اور ہوش،تدبر اور فہم وفراست سے بھارت کے ساتھ سفارتی جنگ بھی لڑنی ہے اور اپنے قومی بیانیہ کو علاقائی اور عالمی سیاست میں مثبت انداز میں بھی پیش کرنا ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ عالمی دنیا میں اب بھی ہمارے بارے میں بہت سے سوالات اور تحفظات موجود ہیں بالخصوص دہشت گردی کے تناظر میں پاکستان کے بارے میں ایک متبادل بیانیہ موجود ہے ، ہمیں اس کا علاج بھی تلاش کرنا ہے۔

سفارت کاری کی اس جنگ میں پاکستان کو ایک مضبوط سیاسی نظام اور سیاسی استحکام درکار ہے۔ یہ جو کچھ ہمیں حالیہ دنوں میں بھارت کے مقابلے میں اتفاق رائے قوم میں دیکھنے کو ملا ہے اس کو کیسے برقرار اور بہتر بنایا جائے یہ ہی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا جس نے حالیہ دنوں میں ایک بڑا طاقت ور کردار پاکستان کی حمایت میں پیش کیا ہے اسے ہی ایک نئی طاقت کے طور پر تسلیم بھی کرنا ہوگا اور اس کی مدد سے آگے بڑھنا ہوگا۔ڈیجیٹل میڈیا ہی بیانیہ بنانے میں بھارت کے ساتھ مقابلے میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔

اسی طرح ہمیں خود آگے بڑھ کر بھارت کے مقابلے میں بھارت کے منفی اور جنگی جنون پر مبنی عزائم اور بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے ثبوت یا شواہد عالمی سفارت کاری کے محاذ پر کمال ہوشیاری کے ساتھ پیش کرنے ہونگے۔عالمی دنیا میں سفارت کاری کے تناظر میں ہمیں اپنا قومی ہوم ورک مکمل کرنا ہوگا اور دنیا بھر میں اپنے سفارت کاروں اور سفارت خانوں کو متحرک و فعال کرنا ہوگا اور یہ کام جنگی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عالمی دنیا میں سفارت کاری کے پاکستان کو حکمت عملی اور بھارت دیکھنے کو بھارت کے بھارت کی میں ایک کے ساتھ

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار