Islam Times:
2026-06-03@06:41:58 GMT

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ امام خمینیؒ کا پیغام فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر اتحاد بین المسلمین پر مبنی تھا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

وادی کشمیر میں امام خمینیؒ کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار

اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی (رہ) کی 36ویں برسی کے موقع پر ایک پیغام میں اُنہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام خمینیؒ ایک ایسے مردِ مومن، مصلحِ ملت اور قائدِ انقلاب تھے جنہوں نے نہ صرف ایران، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو بیداری، مزاحمت اور اسلامی شناخت کا شعور عطا کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ انقلابِ اسلامی ایران امام خمینیؒ کی دوراندیشی، دینی بصیرت اور عوامی قیادت کا زندہ معجزہ ہے، جس نے باطل قوتوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ اسلامی اقدار کی بازیابی اور مظلومینِ عالم کی حمایت کا اعلان تھا۔ آغا سید حسن موسوی نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ کا پیغام فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر اتحاد بین المسلمین پر مبنی تھا، آپ نے ہمیشہ شیعہ سنی اتحاد کو امت کی طاقت قرار دیا اور فرمایا کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور تفرقہ ڈالنے والے دشمن کے ایجنٹ ہیں، آج جب امت انتشار کا شکار ہے، ہمیں امامؒ کی اُس آواز کو پھر سے بلند کرنا ہوگا۔

فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت کرتے ہوئے آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ امام خمینیؒ نے اسرائیل کو "سرطان کے غدود" قرار دیا اور جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دے کر پوری امت کو قبلۂ اول کے تحفظ اور فلسطینیوں کی حمایت کے لئے متحد کیا۔ آپ کا یہ تاریخی جملہ آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے "اگر دنیا کے تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل پر ڈال دیں تو اسرائیل کا نام و نشان مٹ جائے گا"۔ یہ الفاظ محض علامتی نہیں، بلکہ ایک حقیقت کا اعلان ہیں کہ اگر ہم ایک ہوجائیں، تو کوئی طاغوتی قوت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ آغا سید حسن موسوی نے موجودہ حالات، خصوصاً غزہ میں اسرائیل کی جاری وحشیانہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج سینکڑوں معصوم فلسطینی بچے، خواتین اور بزرگ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، ہسپتال، اسکول، اور پناہ گاہیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، اور بین الاقوامی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کیے بیٹھی ہے، یہ ظلم صرف فلسطین پر نہیں، پوری انسانیت پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امام خمینیؒ کی دی گئی رہنمائی پر امت مسلمہ آج بھی عمل کرے اور اتحاد، مزاحمت اور اسلامی بیداری کے اصولوں پر کاربند ہو جائے تو اسرائیل جیسے غاصب کی جرأت باقی نہیں رہے گی۔ آغا سید حسن موسوی نے موجودہ حالات میں اتحاد، عزم، استقامت اور اسلامی اخوت کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ امام خمینیؒ کی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور اُن کی فکر کو اپنے کردار میں ڈال کر اسلام کے عالمی پیغام کو عام کریں۔ آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ امام خمینیؒ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کے خلاف قیام، حق کی حمایت اور امت کی وحدت ہمارا فرض ہے، ہمیں آج پھر اسی جذبے، اسی عزم اور اسی اخلاص کے ساتھ میدانِ عمل میں آنا ہوگا۔ اس اہم سیمینار میں مختلف مسالک سے وابستہ سرکردہ اشخاص نے امام خمینی (رہ) کے تئیں خراج عقیدت پیش کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی 36ویں برسی پر اہم سیمینار وادی کشمیر میں امام خمینی ا غا سید حسن موسوی نے کہا کہ امام خمینی نے کہا کہ کی حمایت کہا کہ ا

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز