ملزم کی وہ غلطی جس کی وجہ سے وہ پکڑا گیا، ثنا یوسف قتل کیس میں اہم انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قاتل مقتولہ کا فون بھی ساتھ لے گیا اور یہی اس کی گرفتاری کی وجہ بنا۔ قتل ہونے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش کو جدید طریقہ کار کے تحت آگے بڑھانا شروع کیا۔ مقتولہ کے موبائل فون کی سی ڈی آر نکلوائی گئی تو 37 لوگوں کی 300 کالز کو ٹریس کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا اور یہی اس کی غلطی ثابت ہوئی۔ پولیس پہلے 12 گھنٹوں کے دوران ہی اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ اصل ملزم فیصل آباد فرار ہوچکا ہے، کیونکہ ملزم عمر اور مقتولہ ثنا کے موبائلز کی کوکیشن ایک ہی جگہ کی آر ہی تھی۔ بعد ازاں اسے گرفتار کرلیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔