اسلام آباد؛ حکومت کا بڑا اقدام، کرایوں میں اضافہ واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آ باد:
حکومت نے بڑی عید سے قبل اہم اقدام کرتے ہوئے کرایوں میں اضافہ واپس لے لیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ملاقات ہوئی اور اس دوران اسلام آباد کے فلاحی منصوبوں اور عوامی سہولتوں میں بہتری کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ واپس لینے کی ہدایت کی اور وزیراعظم کی ہدایت پر وزیرداخلہ محسن نقوی نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ فی الفور واپس لے لیا۔
ذرائع نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ واپس لینے کا نوٹیفکیشن فوری آج رات جاری کرنے کی ہدایت کی گئی اور وزیراعظم نے کہا کہ عید الاضحیٰ سے قبل ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ عوام کے لیے عید کی خوشیوں کو ماند کرنے کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔