ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کیلیے قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
نئے مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج ہوگا۔
ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے طلب کیا گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوں گے۔
اہم اجلاس میں آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی اور سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جائے گی۔ این ای سی کا اجلاس پہلے 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، جو کہ ری شیڈول کرکے آج بلایا گیا ہے۔
وزیرخزانہ محمداورنگزیب این ای سی کے اجلاس میں بجٹ پر وزیراعظم شہبازشریف کو بریفنگ دیں گے۔
قومی اقتصادی کونسل میں آئندہ بجٹ کے لیے خدوخال کی منظوری دی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ نیشنل اکنامک کونسل آئندہ مالی سال کے لیے 3795 ارب ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے گی، جس میں پنجاب کے لیے آئندہ سال 1188 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور ہوسکتا ہے، سندھ کے لیے 887 ارب، خیبر پختونخوا کے لیے 440 ارب اور بلوچستان کے لیے 280 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور ہوسکتا ہے۔
اجلاس میں ترقیاتی بجٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شراکت داری کی منظوری ہو گی۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل اکنامک کونسل 5 سالہ منصوبہ بندی کی بھی منظوری دے گی۔ آئندہ مالی سال کے لیے 4.
اسی طرح صنعتی شعبے کی گروتھ کا ہدف 4.3 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 4.7 فیصد اور بڑی صنعتوں کی گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد رکھنے کی تجویز ہے جب کہ چھوٹی صنعتوں کی گروتھ کا ہدف 8.9 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔
اہم فیصلوں کی گروتھ کا ہدف 6.7 فیصد، دیگر فیصلوں کی گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد، کاٹن جننگ کی گروتھ کا ہدف 7 فیصد تجویز اور لائیو اسٹاک کی گروتھ کا ہدف 4.2 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔
علاوہ ازیں جنگلات کی گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد، ماہی گیری کی گروتھ کا ہدف 3 فیصد، سلاٹرنگ کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 4.3 فیصد، بجلی،گیس اور پانی سپلائی کے شعبوں کی گروتھ کاہدف3.5فیصد اور تعمیرات کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.8 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال خدمات کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 4 فیصد، ہول سیل اینڈ رٹیل ٹریڈ شعبے کی گروتھ کا ہدف 3.9فیصد، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن گروتھ کا ہدف 3.4 فیصد تجویز ، ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس کی گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد جب کہ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 5 فیصدرکھنے تجویز ہے۔
اس کے علاوہ فنانشل بزنس اینڈ انشورنس کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 5 فیصد، رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کی گروتھ کا ہدف4.2 فیصد، تعلیم کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 4.5 فیصد جب کہ انسانی صحت اور سماجی سرگرمیوں کی گروتھ کا ہدف 4 فیصدرکھنے تجویز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے شعبے کی گروتھ کا ہدف 4 قومی اقتصادی کونسل کی گروتھ کا ہدف 3 آئندہ مالی سال ترقیاتی بجٹ مالی سال کے اجلاس میں کی منظوری کا اجلاس کے لیے
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر