پاک بھارت کشیدگی کے بعد مودی نے نہ قومی سلامتی کے معاملات پر قوم کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی جمہوری اصولوں کا پاس رکھا، مودی کی جانب سے جمہوری روایات کو نظرانداز کرنے اور عوام سے اہم حقائق چھپانے پر کانگریس رہنما جے رام رمیش نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ ’’سی ڈی ایس جنرل چوہان نے سنگاپور میں جن حقائق کی تصدیق کی، بہتر ہوتا یہ باتیں وزیر دفاع آل پارٹی میٹنگز میں کرتے۔ وزیر دفاع نے دو آل پارٹی اجلاسوں کی صدارت کی مگر کوئی وضاحت نہیں دی۔‘‘

جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کے مطابق وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر معلومات دینی چاہیے تھی، جنرل چوہان کی جانب سے کی جانے والی سنگین گفتگو کا ادراک پارلیمنٹ میں اپوزیشن سے شیئر کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی معاملات پر بات فوج کر سکتی ہے مگر سیاسی، سفارتی اور معاشی پہلوؤں پر پارلیمان کی رائے ضروری ہے۔ چین اور پاکستان کا اشتراک آپریشن سندور کے دوران واضح ہوا، جس پر سنجیدہ مکالمہ درکار ہے۔

جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے مگر جمہوری روایات کا احترام نہیں کیا گیا۔ جنرل چوہان کے نکات صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی، سیاسی اور معاشی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، پارلیمنٹ میں ذمہ دارانہ بحث ازحد ضروری ہے لہٰذا حکومت عوام کو اعتماد میں لے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنرل چوہان

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے