Express News:
2026-07-24@04:47:27 GMT

عیدالاضحیٰ، یہودی معاشی نظام پر کاری ضرب

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

جیسے ہی عیدالاضحیٰ قریب آتی ہے، سوشل میڈیا پر ایسی مہمات کا آغاز ہوجاتا ہے جو مسلمانوں کو قربانی جیسے اہم فریضے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جانوروں کے حقوق، غربت، یا ماحولیات جیسے بہانے بنا کر قربانی کے عمل کو غیر ضروری اور ظالمانہ ثابت کیا جاتا ہے، حالانکہ یہی لوگ دیگر مذاہب کی فرسودہ، غیر منطقی اور فضول خرچی پر مبنی رسومات پر خاموش نظر آتے ہیں۔

یہ مہم دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جو زیادہ تر یہودی لابی کی طرف سے پھیلائی جاتی ہے جبکہ کندھا، لبرل مافیا اور دین سے ناواقف افراد کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو ان کی دینی جڑوں سے کاٹا جاسکے۔


عیدالاضحیٰ پر یہودی اعتراضات کا پسِ منظر

یہودیوں کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی روایت سے مسئلہ اس لیے ہے کیونکہ ان کی کتابوں کے مطابق وہ بیٹا حضرت اسحاق علیہ السلام تھے جنہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کےلیے پیش کیا۔ (Torah: Genesis 22)

جبکہ اسلامی عقیدے کے مطابق یہ بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے، جنہیں خواب کے بعد اللہ کی رضا کےلیے قربان کرنے کا ارادہ کیا گیا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیجا۔ قرآن کریم کی ترتیب اور سیاق و سباق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قربانی کا واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا، اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش بعد میں ہوئی۔ اس نظریاتی فرق  اور بنی اسماعیل سے نفرت کی جڑیں یہودیوں کے اس عقیدے میں ہیں کہ نبوت کا سلسلہ صرف بنی اسرائیل میں رہنا چاہیے تھا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آخری نبی، خاتم النبیین، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنی اسماعیل میں مبعوث فرما کر ان کی سوچ کو چیلنج کردیا۔

یہی وہ اصل وجہ ہے کہ عیدالاضحیٰ پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کا چرچا، یہودیوں کی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہودیوں کی منافقت اس بات سے بھی عیاں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گو کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے لیکن چونکہ وہ سودی نظام اور بینکنگ کی یہودی طرز کے خلاف تھے اسی لیے یہودیوں نے انہیں بھی جھٹلا دیا اور ان کے قتل کے منصوبے بھی بنائے۔


یہودی معاشی نظام پر ضرب

عیدالاضحیٰ نہ صرف ایک عبادت ہے بلکہ ایک مضبوط معاشی نظام کا حصہ بھی ہے۔ ہر سال لاکھوں اوورسیز مسلمان اور پاکستانی قربانی کےلیے اپنے اپنے وطن رقم بھیجتے ہیں کیونکہ وہاں قربانی مہنگی ہوتی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہوتا ہے جو وہ دنیا کے ان یہودی مالیاتی اداروں اور بینکوں سے نکال کر اپنے اپنے ملک کی معیشت میں ڈالتے ہیں، جس سے یہودی لابی کو براہ راست مالی نقصان ہوتا ہے۔ اس رقم سے ملک میں اربوں روپے کی معیشت گردش کرتی ہے، لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے، قصاب، ٹرانسپورٹر، چارہ فروش، چمڑے کی صنعت، سب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی معاشی فائدہ بعض طاقتوں کو کھٹکتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ترقی پذیر اسلامی ممالک خود کفیل بنیں۔

اس کے علاوہ عیدالاضحیٰ پوری دنیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور نظم و ضبط کی علامت ہے۔ ہر قوم، ہر زبان، ہر علاقے کے مسلمان ایک ہی جذبے اور وقت میں ایک جیسے عمل انجام دیتے ہیں۔ یہ عالمی اسلامی یکجہتی مغرب اور یہودیوں کےلیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ انہیں ایک منظم اور بیدار امت سے ہمیشہ خوف رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے نفسیاتی حملے کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اپنے مذہب سے دور اور منتشر رکھا جاسکے۔


ایّامِ نَحر (عیدالاضحیٰ کے تین دنوں کی فضیلت)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ان دنوں (یعنی عشرۂ ذوالحجہ) میں کیا گیا نیک عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جہاد بھی ان دنوں کے عمل جیسا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، جہاد بھی نہیں، سوائے اُس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ آیا (یعنی سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کردیا)‘‘ (بخاری کتاب العیدین، حدیث نمبر: 969)

اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو‘‘۔ (جامع الترمذي، حدیث نمبر: 1493)

ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اِن دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی عمل مقبول نہیں یہاں تک کہ قربانی، جہاد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ٹھہری، تاوقتیکہ مسلمان اپنی جان اور مال و اسباب بھی اللہ کی راہ میں نہ لُٹا آئے، کیونکہ قربانی کی اصل روح بھی مسلمان کی ٹریننگ ہے تاکہ وہ بوقتِ ضرورت اپنی جان تک قربان کرنے کےلیے تیار رہے۔

اسلامی شعائر نہ صرف عبادت بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہیں، جن میں قربانی جیسے اعمال انسان کو قربِ الٰہی کے ساتھ ساتھ معاشرتی، معاشی اور روحانی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان سازشوں کو پہچانیں اور اپنی آنے والی نسل کو دینی شعائر کی اصل روح سے آگاہ کریں، تاکہ وہ کسی بھی بیرونی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قربانی کے کے ساتھ

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت