نئے ٹیکس لگائے بغیر صوبائی آمدن میں 50 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت پسماندہ اضلاع کی اپ لفٹنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، پسماندہ اضلاع میں روڈز انفرا اسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں میں ورلڈ بینک کا اہم کردار رہا ہے اور نئے ٹیکس لگائے بغیر آمدن میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے عالمی بینک کے سبکدوش ہونے والے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسن نے اسلام آباد میں ملاقات کی، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق باہمی دلچسپی کے امور، خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں اور عالمی بینک کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طور پر مواصلات، توانائی، صحت، تعلیم، سیاحت، آب پاشی اور دیگر شعبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تعاون فراہم کرنے پر عالمی بینک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں میں ورلڈ بینک کا اہم کردار رہا ہے اور حکومت خیبرپختونخوا عالمی بینک کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت پسماندہ اضلاع کی اپ لفٹنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، پسماندہ اضلاع میں روڈز انفرا اسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کا بھرپور پوٹینشل موجود ہے، سیاحت کو فروغ دے کر روزگار کے نئےمواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر سیکٹر میں ریفارمز، مؤثر مانیٹرنگ اور ڈیجیٹائز یشن پر کام کر رہی ہے، نئے ٹیکس لگائے بغیر صوبائی آمدن میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، یہ پیسہ عوام پر ہی خرچ کر رہے ہیں۔ دیگر اصلاحاتی اور ترقیاتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ورکس ڈپارٹمنٹس میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور مؤثر مانیٹرنگ کے لیے ای پیڈ سسٹم متعارف کرا دیا ہے جبکہ زراعت کے شعبے کے فروغ اور واٹر منیجمنٹ کے لیے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ صوبائی حکومت اپنی پاور ٹرانسمشن لائن بچھا رہی ہے جس کے ذریعے مقامی بجلی صنعتوں کو رعائتی نرخوں پر دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کی ترقی سے ہی بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے، ہم ان منصوبوں پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں جن میں قرضہ واپس کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس موقع پر ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسن نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں پر عمل درآمد کی پیش رفت متاثر کن ہے، خیبر پختونخوا حکومت کا اپنی آمدن میں اضافہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ناجی بن حسن کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کا خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں گنڈاپور نے کہا پسماندہ اضلاع خیبر پختونخوا عالمی بینک کے کہنا تھا کہ نے کہا کہ علی امین بینک کا رہی ہے
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔