سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز
نیویارک(آئی پی ایس) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے مطالبے پر مبنی قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا۔
قرارداد کے حق میں 15 رکنی کونسل کے 14 ارکان نے ووٹ دیا، تاہم امریکا کے ویٹو نے اسے منظور ہونے سے روک دیا۔
یہ قرارداد 10 ممالک کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے فوری خاتمے اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں امریکا کی قائم مقام سفیر ڈوروتھی شیا نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کر سکتا جو حماس کی مذمت نہ کرے اور اس کے غیر مسلح ہو کر غزہ سے انخلاء کا مطالبہ نہ کرے۔
یہ قرارداد زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی اور حماس کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
نائب سفیر ڈوروتھی شیا نے ووٹنگ کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی چیز کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس کو شکست دینا اور یہ یقینی بنانا کہ وہ دوبارہ خطرہ نہ بنے، اسرائیل کا حق ہے۔ امریکی مخالفت پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
اسرائیل کی جانب سے بھی مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک حماس غزہ میں موجود ہے، جنگ بندی ممکن نہیں۔
اسرائیل نے مارچ میں دو ماہ کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ عسکری کارروائیاں شروع کر دی ہیں جن کا مقصد حماس کے زیرِ قبضہ مغویوں کو بازیاب کرانا بھی ہے۔
غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی حکام کے مطابق 45 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اس کا ایک فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔
19 مئی کو 11 ہفتے کی پابندی کے خاتمے کے بعد سے امدادی سامان کی محدود فراہمی جاری ہے، تاہم 20 لاکھ سے زائد آبادی والے محصور علاقے میں قحط کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔
امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) نے بدھ کے روز کوئی امدادی سامان تقسیم نہیں کیا۔ فاؤنڈیشن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی مراکز کے ارد گرد شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات بہتر بنائے جائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی وزیر خارجہ کا تیانمن اسکوائر سے متعلق بیان چین پر حملہ قرار امریکی وزیر خارجہ کا تیانمن اسکوائر سے متعلق بیان چین پر حملہ قرار جنگ بندی پر عمل جاری ہے، ٹرمپ نے بغیر کسی شبے کے ثابت کر دیا وہ امن کے پیامبر ہیں: وزیراعظم شہباز شریف ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی نہیں، اسٹیبلشمنٹ کو ہماری ضرورت ،جیل سے خود احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا، عمران خان بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہے، خطے میں بالادستی کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے، اسحاق ڈار وزیراعظم کی گوادر کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا کام تیز کرنے کی ہدایت آئی ایم ایف؛ منقولہ اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کی تجویز مسترد، ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کی اجازتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔