ٹیکس تنازع؛ بورڈ اور کرکٹرز میں معاملات طے پاگئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
سری لنکن کرکٹرز اور حکام کے درمیان ٹیکس تنازع کا عبوری معاہدہ طے پاگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مارچ میں مینز اور ویمنز کرکٹرز کی جانب سے بورڈ اور ان لینڈ ریونیو ڈپارٹمنٹ کے درمیان انکم ٹیکس تنازع کے خلاف ثالثی عدالت میں اپیل کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ بورڈ کے ملازم نہیں بلکہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں، اسی ضمن میں ان سے ٹیکس لیا جائے۔
سری لنکن کرکٹ بورڈ (ایس ایل سی) کی لیگل ٹیم نے بھی اس موقف کی تائید کی تھی۔
اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے دلیل دی گئی کہ سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کے بعد ان کھلاڑیوں کو بورڈ کا ملازم ہی تصور کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 کے بعد ٹیسٹ کی کپتانی! سلمان آغا سے متعلق نئی پیشگوئی
گزشتہ روز سماعت کے موقع پر حکام اور کرکٹرز میں عارضی تصفیہ ہوا، جس کے تحت پلیئرز سے جون کے ماہ سے ایڈوانس پرسنل انکم ٹیکس لیا جائے گا۔
اسی طرح گزشتہ 2 مالی سال کے واجبات کا معاملہ کیس کا فیصلہ سامنے آنے تک موخر رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔