سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو ہونے سے بہت خطرناک پیغام جائے گا، پاکستانی مندوب
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو ہونے سے بہت خطرناک پیغام جائے گا، پاکستانی مندوب WhatsAppFacebookTwitter 0 5 June, 2025 سب نیوز
نیویارک(آئی پی ایس) پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اس وقت سنگین صورتحال ہے اور قرارداد کے ویٹو ہونے سے بہت خطرناک پیغام جائے گا۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اور کتنا وقت چاہیے؟ زمین پر غزہ کا حال جہنم سے زیادہ برا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ 24 گھنٹوں میں 100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے، اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے مزید کہا کہ خوراک کے لیےغزہ میں شہریوں کا قتل ہو رہا ہے، غزہ میں قتل عام بند ہونا چاہیے، شہریوں کو جینے کا حق ہے، پاکستان فلسطین کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرن لیگ کی بڑی وکٹ گرنے کو تیار، اہم رہنما کو پی ٹی آئی میں شمولیت کا سگنل مل گیا ن لیگ کی بڑی وکٹ گرنے کو تیار، اہم رہنما کو پی ٹی آئی میں شمولیت کا سگنل مل گیا پاکستانی بھینسوں کے جنین سے بچھڑوں کی پیدائش کےذریعے چین کی ڈیری صنعت کو فروغ ملے گا حج کارکنِ اعظم وقوف عرفہ آج ادا کیا جائے گا ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ نوجوان نے ملزم سلمان فاروقی کو معاف کردیا شملہ معاہدہ ختم، سیز فائر لائن اور ایل او سی کی حیثیت پر بات کرنا ہوگی، 1948 والی پوزیشن پر آگئے، وزیردفاع سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل میں جائے گا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔