خطے کا مستقل امن کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے جڑا ہے، راجہ پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ خطے کا مستقل امن کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے جڑا ہے، ہم امن چاہتے ہیں، پاک بھارت مسائل کا واحد حل بات چیت ہے۔
ایک بیان میں راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر بھارت مذاکرات کی ٹیبل پر آئے، بلاول بھٹو نے بین الاقوامی فورمز پر پانی، کشمیر اور دہشت گردی کے ایشوز اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے امن کو مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات شکست خوردہ شخص کی عکاسی کر رہے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔