پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لئے پر بروقت اور فوری عمل درآمد درکار ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جون2025ء)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لئے پر بروقت اور فوری عمل درآمد درکار ہے،پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آکودگی کے خلاف پوری دنیا کو جرات مندانہ مشترکہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہاکہ ماحولیات عالمی دن پر پاکستان کرہ ارض کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
اس سال ماحولیات کے عالمی دن کا تھیم - ’’پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ‘‘ہے۔ پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لئے پر بروقت اور فوری عمل درآمد درکار ہے۔(جاری ہے)
انہوںنے کہاکہ پلاسٹک کی آلودگی ایک ماحولیاتی چیلنج ہے جو ہمارے ماحولیاتی نظام، ہماری معیشت اور آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے، یہ آلودگی نہ صرف دریاؤں اور سمندروں کو متاثر کرتی ہے بلکہ سمندری حیات کے لئے بھی مضر ہے،پوری دنیا میں پلاسٹک کا فضلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور پاکستان بھی اس آلودگی سے بری طرح متاثر ہے، پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آکودگی کے خلاف پوری دنیا کو جرات مندانہ مشترکہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
انہوںنے کہاکہ حکومت پاکستان ایسی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے جو ماحول دوست متبادل ذرائع توانائی کو فروغ دیتی ہیں، اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور پلاسٹک کے استعمال پر سخت قوانین و ضوابط کا نافذ کرتی ہیں تاہم حقیقی تبدیلی انفرادی سطح پر شروع ہوتی ہے ظ ہمارے گھروں، ہمارے محلوں ، اور زندگی کے تمام شعبوں میں ہمارے انتخاب سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ آئیے ہم یہ عزم کریں کہ ہم آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لئے ماحول کو بہتر اور صاف بنانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ا لودگی سے نے کہاکہ کے لئے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز