وسیم اکرم کا مجسمہ دیکھ کر میمز کا طوفان اُمڈ آیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم کے باہر لگے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کے مجسمے پر مداح بھڑک اُٹھے۔
اس مجسمے میں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز کو اس کے ٹریڈ مارک بالنگ کے انداز میں دکھایا گیا ہے، جس میں وہ پاکستان کی 1999 ورلڈکپ میں استعمال ہوئی جرسی پہنی ہوئی ہے۔
اس مجسمے کی نقاب کشائی اپریل 2025 میں کی گئی تھی لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسکی تصویر آج وائرل ہونا شروع ہوئی، جس پر شائقین کرکٹ نے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں: چور اولمپئن سمیع اللہ کے مجسمے کی ہاکی اور گیند لے اڑے
ایک صارف نے مجسمے کا مذاق بناتے ہوئے لکھا کہ وسیم اکرم یہ شکل دیکھ کر لگ رہا ہے کہ وہ اپنے ابتدائی دنوں میں ٹیم میں شامل ہونے کی جدوجہد کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: قومی ٹیم کا ٹیسٹ فارمیٹ میں ہیڈکوچ کون ہو؟ وسیم اکرم نے بتادیا
ایک اور صارف نے مجسمے کو وسیم اکرم کا ٹیمو ورژن قرار دیا جبکہ ایک مداح نے سابق کرکٹر کو مشورہ دیا کہ وہ خود اُسے کہیں سے اَپ ڈیٹ کروالیں۔
1984 سے 2003 تک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وسیم نے ٹیسٹ فارمیٹ میں سب سے زیادہ 414 اور ون ڈے فارمیٹ میں 502 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وسیم اکرم
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔