مذاکرات ناکام ہونے سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے،اسرائیل
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 جون2025ء)اسرائیل نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کا عندیہ نہ دیں کہ تہران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ نے نے دو با خبر اسرائیلی عہدے داران کے حوالے سے بتائی۔
(جاری ہے)
ان میں سے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو کسی فوجی کارروائی کے ذریعے حیران نہیں کرے گا۔
مذکورہ دونوں عہدے داران کے مطابق یہ پیغام امریکا کو گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے دورے کے دوران پہنچایا گیا۔ دورہ کرنے والے وفد میں اسرائیل کے وزیر برائے تزویراتی امور رون دیرمر، موساد کے سربراہ دافید برنیع اور قومی سلامتی کے مشیر تساحی ہنغبی شامل تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔