خیبر پختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایک اہم اور دور رس فیصلہ کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد سرکاری ملازمین کے درمیان مالی مراعات کے غیر متوازن نظام کو درست کرنا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ خزانہ نے افسران کے بلند الاؤنسز میں کمی اور نچلے درجے کے ملازمین کے لیے الاؤنسز میں اضافے کی تجویز تیار کر لی ہے، جو بجٹ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

الاؤنسز میں طبقاتی فرق کا بحران

سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں اعلیٰ افسران اور نچلے درجے کے ملازمین کو دی جانے والی مراعات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ایس ایس، سیکریٹریٹ اور پولیس افسران کو ان کی بنیادی تنخواہ کے 150 فیصد تک الاؤنس دیا جا رہا ہے۔ سیکریٹریٹ میں کام کرنے والے مینجمنٹ افسران کو “ایگزیکٹو الاؤنس” کی صورت میں یہی فائدہ حاصل ہے، جبکہ اسی سیکریٹریٹ کے دیگر ملازمین کو محض 20 فیصد الاؤنس دیا جاتا ہے۔

اسی طرح پولیس میں ایس پی رینک سے اوپر کے افسران کو “رسک الاؤنس” دیا جاتا ہے، مگر کانسٹیبل اور سپاہی جیسے اہلکار، جو میدان میں براہِ راست خطرات کا سامنا کرتے ہیں، اس الاؤنس سے محروم یا بہت کم حصہ پاتے ہیں۔ سب سے تشویشناک صورتحال مختلف محکموں کے ڈائریکٹوریٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی ہے، جو کسی بھی قسم کے اضافی الاؤنس سے یکسر محروم ہیں، حالانکہ ان کا کام بھی حساس اور اہم نوعیت کا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 26-2025؛ گاڑیوں اور موٹر بائیکس کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے؟

مایوسی، احتجاج اور دیرینہ مطالبات

ذرائع کے مطابق اس امتیازی نظام نے نچلے اور درمیانے درجے کے ملازمین میں شدید مایوسی پیدا کی ہے۔ خاص طور پر ڈائریکٹوریٹس کے ملازمین نے الاؤنسز میں مساوات کے مطالبے پر کئی ماہ تک کام کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ ان کا موقف تھا کہ اگر سیکریٹریٹ اور پولیس افسران کو اضافی مراعات دی جا سکتی ہیں تو دیگر محکموں کے اہلکار کیوں نظرانداز کیے جا رہے ہیں؟

حکومت کی مجوزہ پالیسی

محکمہ خزانہ کے مطابق حکومت اس وقت ایسی پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کے تحت اُن افسران کے الاؤنسز میں کٹوتی کی جائے گی جو پہلے ہی اپنی بنیادی تنخواہ سے کہیں زیادہ مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس میدانی عملے اور نچلے درجے کے ملازمین کے لیے اضافی الاؤنسز تجویز کیے جا رہے ہیں، تاکہ ان کی خدمات کا مناسب صلہ دیا جا سکے۔ پالیسی کے مطابق ہر محکمے میں الاؤنسز کی تقسیم خطرے کی نوعیت اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر کی جائے گی۔

محکمہ خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو ملازم جتنا رسک اور محنت کرتا ہے، اسے اتنا ہی فائدہ ملنا چاہیے۔ صرف کرسی پر بیٹھے افسر کو میدان میں کام کرنے والے اہلکار سے زیادہ الاؤنس دینا ناانصافی ہے۔

ممکنہ اثرات اور ردِعمل

ماہرین کے مطابق اگر حکومت یہ پالیسی بجٹ میں نافذ کر دیتی ہے تو یہ قدم پورے ملک کے لیے ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری ملازمین کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ کارکردگی اور سروس ڈیلیوری میں بھی بہتری آئے گی۔ تاہم، اس بات کا امکان بھی ہے کہ اعلیٰ افسران مجوزہ کٹوتیوں کی مخالفت کریں، خاص طور پر وہ جنہیں کئی برسوں سے ان مراعات کا فائدہ حاصل رہا ہے۔ حکومت کو اس پالیسی کے نفاذ کے لیے جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الاونس بجٹ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الاونس خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور درجے کے ملازمین خیبر پختونخوا الاؤنسز میں ملازمین کے افسران کو کے مطابق اور نچلے کام کر دیا جا کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن