خیبر پختونخوا بجٹ 2025: افسران کے الاؤنسز میں کٹوتی اور نچلے ملازمین کے لیے ریلیف کی تیاریس
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایک اہم اور دور رس فیصلہ کرنے جا رہی ہے، جس کا مقصد سرکاری ملازمین کے درمیان مالی مراعات کے غیر متوازن نظام کو درست کرنا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ خزانہ نے افسران کے بلند الاؤنسز میں کمی اور نچلے درجے کے ملازمین کے لیے الاؤنسز میں اضافے کی تجویز تیار کر لی ہے، جو بجٹ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
الاؤنسز میں طبقاتی فرق کا بحرانسرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں اعلیٰ افسران اور نچلے درجے کے ملازمین کو دی جانے والی مراعات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ایس ایس، سیکریٹریٹ اور پولیس افسران کو ان کی بنیادی تنخواہ کے 150 فیصد تک الاؤنس دیا جا رہا ہے۔ سیکریٹریٹ میں کام کرنے والے مینجمنٹ افسران کو “ایگزیکٹو الاؤنس” کی صورت میں یہی فائدہ حاصل ہے، جبکہ اسی سیکریٹریٹ کے دیگر ملازمین کو محض 20 فیصد الاؤنس دیا جاتا ہے۔
اسی طرح پولیس میں ایس پی رینک سے اوپر کے افسران کو “رسک الاؤنس” دیا جاتا ہے، مگر کانسٹیبل اور سپاہی جیسے اہلکار، جو میدان میں براہِ راست خطرات کا سامنا کرتے ہیں، اس الاؤنس سے محروم یا بہت کم حصہ پاتے ہیں۔ سب سے تشویشناک صورتحال مختلف محکموں کے ڈائریکٹوریٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی ہے، جو کسی بھی قسم کے اضافی الاؤنس سے یکسر محروم ہیں، حالانکہ ان کا کام بھی حساس اور اہم نوعیت کا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی بجٹ 26-2025؛ گاڑیوں اور موٹر بائیکس کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے؟
مایوسی، احتجاج اور دیرینہ مطالباتذرائع کے مطابق اس امتیازی نظام نے نچلے اور درمیانے درجے کے ملازمین میں شدید مایوسی پیدا کی ہے۔ خاص طور پر ڈائریکٹوریٹس کے ملازمین نے الاؤنسز میں مساوات کے مطالبے پر کئی ماہ تک کام کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ ان کا موقف تھا کہ اگر سیکریٹریٹ اور پولیس افسران کو اضافی مراعات دی جا سکتی ہیں تو دیگر محکموں کے اہلکار کیوں نظرانداز کیے جا رہے ہیں؟
حکومت کی مجوزہ پالیسیمحکمہ خزانہ کے مطابق حکومت اس وقت ایسی پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کے تحت اُن افسران کے الاؤنسز میں کٹوتی کی جائے گی جو پہلے ہی اپنی بنیادی تنخواہ سے کہیں زیادہ مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس میدانی عملے اور نچلے درجے کے ملازمین کے لیے اضافی الاؤنسز تجویز کیے جا رہے ہیں، تاکہ ان کی خدمات کا مناسب صلہ دیا جا سکے۔ پالیسی کے مطابق ہر محکمے میں الاؤنسز کی تقسیم خطرے کی نوعیت اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر کی جائے گی۔
محکمہ خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو ملازم جتنا رسک اور محنت کرتا ہے، اسے اتنا ہی فائدہ ملنا چاہیے۔ صرف کرسی پر بیٹھے افسر کو میدان میں کام کرنے والے اہلکار سے زیادہ الاؤنس دینا ناانصافی ہے۔
ممکنہ اثرات اور ردِعملماہرین کے مطابق اگر حکومت یہ پالیسی بجٹ میں نافذ کر دیتی ہے تو یہ قدم پورے ملک کے لیے ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری ملازمین کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ کارکردگی اور سروس ڈیلیوری میں بھی بہتری آئے گی۔ تاہم، اس بات کا امکان بھی ہے کہ اعلیٰ افسران مجوزہ کٹوتیوں کی مخالفت کریں، خاص طور پر وہ جنہیں کئی برسوں سے ان مراعات کا فائدہ حاصل رہا ہے۔ حکومت کو اس پالیسی کے نفاذ کے لیے جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الاونس بجٹ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الاونس خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور درجے کے ملازمین خیبر پختونخوا الاؤنسز میں ملازمین کے افسران کو کے مطابق اور نچلے کام کر دیا جا کے لیے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔