مشرق وسطیٰ اور متعدد مغربی ممالک میں عید کی خوشیاں
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 جون 2025ء) مشرق وسطی اور متعدد مغربی ممالک میں عید الاضحیٰ جمعے کے دن روایتی جوش و خروش اور عقیدت سے منائی جا رہی ہے۔ شدید گرم موسم کے پیش نظر اس بار حج کے موقع پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ جمعرات کے روز سولہ لاکھ سے زائد حاجیوں نے حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا، اس موقع پر فلسطینیوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
جمعے کے دن فجر سے پہلے ہی حجاج نے مکہ مکرمہ کے نواح میں وادی منیٰ میں واقع تین کنکریٹ کی دیواروں پر سات سات کنکریاں مارنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ ان دیواروں کو شیطان کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
یہ رسم ابراہیمی مذاہب کے مطابق اس واقعے کی یادگار ہے، جب ابراہیم نے شیطان کو تین مقامات پر کنکریاں مار کر بھگا دیا تھا کیونکہ شیطان نے انہیں اپنے بیٹے کی قربانی دینے کے حکم الٰہی سے روکنے کی کوشش کی تھی۔
(جاری ہے)
جمعرات کو حجاج جبل عرفات پر جمع ہوئے تھے، جہاں وہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی تلاوت اور دعا میں مشغول رہے۔ یاد رہے کہ ستر میٹر بلند اس پہاڑی پر پیغمبراسلام نے اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔
شدید گرمی کے باوجود بہت سے حجاج نے پہاڑ پر چڑھنے کی ہمت کی تاہم دوپہر تک حکام کی جانب سے دس بجے سے چار بجے کے درمیان خیموں میں رہنے کی ہدایت کے بعد حجاج کی تعداد میں واضح کمی ہو گئی۔
حج کے لیے خصوصی اقداماتاس سال حج کے دوران حکام نے گرمی سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کے ساتھ غیر قانونی طریقے سے آنے والے حجاج کے خلاف سخت کارروائی بھی کی، جس کے نتیجے میں مکہ اور مسلمانوں کے دیگر مقدس مقامات پر بھیڑ نسبتاً کم رہی۔ اس دوران سکیورٹی کا سخت انتظام بھی نظر آیا۔
یہ اقدامات پچھلے سال پیش آنے والے ایسے واقعے کے پیش نظر کیے گئے تھے، جب درجہ حرارت 51.
سعودی حکام کے مطابق زیادہ تر اموات اُن افراد کی ہوئیں، جو غیر قانونی طور پر مکہ میں داخل ہوئے اور انہیں رہائش اور گرمی سے بچاؤ کی سہولتیں میسر نہ تھیں۔
گزشتہ سال سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اٹھارہ لاکھ مسلمانوں نے حج کیا تھا۔
کورونا کی عالمی وبا کے برسوں کے علاوہ گزشتہ تیس سال کے بعد پہلی مرتبہ سب سے کم تعداد میں عازمین حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
حج کے اجازت نامے ہر ملک کو کوٹے کے حساب سے دیے جاتے ہیں اور افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کیے جاتے ہیں۔ لیکن زیادہ اخراجات کے باعث کئی لوگ اجازت نامے کے بغیر حج کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ایسے افراد کو گرفتاری اور ملک بدری کا خطرہ رہتا ہے۔
وادی منیٰ میں سن 2015 میں ایک جان لیوا بھگدڑ کے نتیجے میں تیئس سو سے زائد حاجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کو حج کی دوران ہونے والے بدترین حادثات میں سے ایک قرار دیا جاتا تھا۔ سعودی عرب ہر سال حج اور عمرہ سے اربوں ڈالر کماتا ہے۔
ادارت: رابعہ بگٹی
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ(Operation Checkmate) کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
مزیدپڑھیں:مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔