عید الاضحیٰ پر قربانی کے اوزاروں کی مانگ میں اضافہ، دکانوں پر رش
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
کراچی:عید الاضحیٰ پر شہریوں کی بڑی تعداد نے قربانی سے متعلق نئے اوزار خریدے اور پرانے اوزاروں پر پر دھاریں لگوالیں۔اس حوالے سے قربانی کے اوزاروں کو تیز کرنے اور فروخت کی دکانوں پر رش رہا۔ الکرم اسکوائر میں قربانی کے اوزار فروخت اور تیز کرنے کی دکان کے مالک محسن علی نے بتایا کہ عید الاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی میں بغدے، مختلف اقسام کی چھریاں اور ان کو دھار لگانے کے لیے خصوصی سیخ استعمال ہوتی ہے۔قصابوں کے لیے یہ اوزار آرڈر پر بنائے جاتے ہیں۔ گھریلو استعمال کے نئے اوزار کی قیمتوں میں 100 سے 400 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ مختلف اقسام کی چھریاں 400 روپے سے 2500 روپے یا اس سے زائد میں فروخت کی جارہی ہیں۔بغدے کی قیمت 800 سے 3000 روپے تک رہی۔ زیادہ تر شہریوں نے پرانے اوزاروں کو تیز کرایا ہے۔ ان اوزاروں کو تیز کرنے کیلئے فی کس دھار ریٹ 150 سے 200 روپے تک وصول کیا جارہا ہے۔کئی شہریوں نے 3000 ہزار تک مالیت کے قربانی کا گوشت بنانے کے اوزار خریدے ہیں جبکہ پرانے اوزاروں پر دھاریں عید سے قبل لگاوالی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے اوزار
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔