سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ: 4 سیٹر رکشوں پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
سندھ حکومت نے سڑکوں پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور شہریوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے 4 سیٹر رکشوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چنگ چی رکشہ بنانے والی کمپنیوں کو بند کیا جانا چاہیے، لاہور ہائیکورٹ
اب صرف 1×2 سیٹر رکشے ہی سڑکوں پر چلنے کی اجازت ہوگی۔ اس فیصلے کے تحت 4 سیٹر رکشوں کی نئی رجسٹریشنز اور روٹ پرمٹس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
یہ اقدام ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور سڑکوں پر حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 4 سیٹر رکشے سڑکوں پر جگہ زیادہ گھیرتے ہیں اور ان کی وجہ سے ٹریفک جام اور حادثات میں اضافہ ہو رہا تھا۔
ٹرانسپورٹ حکام نے رکشہ مالکان اور ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانے اور رکشے کی ضبطگی شامل ہو سکتی ہے۔
شہریوں نے اس فیصلے کو ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹریفک کی روانی کو بہتر بنائے گا، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس سے رکشہ ڈرائیوروں کی روزی پر اثرپڑے گا۔
حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے بھی متعارف کروائے ہیں، تاکہ سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے۔
یہ فیصلہ سندھ حکومت کی جانب سے شہریوں کی حفاظت اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2 سیٹر رکشہ 4سیٹر رکشہ پابندی پرمٹ حکومت سندھ کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 2 سیٹر رکشہ 4سیٹر رکشہ پابندی حکومت سندھ کراچی سڑکوں پر اس فیصلے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔