عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہدا کے لواحقین نے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کیا ہے،  جس میں انہوں نے رتبۂ شہادت کو پانے لیے فخر قرار دیا۔

وطن عزیز کی حفاظت کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے والے شہدا کے لواحقین  آج بھی اپنے پیاروں کو جذباتی انداز میں یاد کرتے ہیں۔

حوالدار کاشف ضیا شہید کی بیٹی نے اس موقع پر بتایا کہ میرے والد جب عید پر آتے تھے تو ہم تینوں بہن بھائیوں کے لیے کپڑے، چوڑیاں اور مہندی لے کر آتے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد 8 عیدیں گزر چکی ہیں لیکن ہمیں آج بھی ان کی بہت یاد آتی ہے۔

ان کی بیوہ نے   بتایا کہ میرے شوہر بہت اچھے انسان تھے اور ہمیں ان کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر عید کے موقع پر۔ انہوں نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے۔

اسی طرح سپاہی محمد صفدر شہید کے والد نے کہا کہ میرے بیٹے نے اپنے وطن کی خاطر جان دی اور شہادت کا رتبہ حاصل کیا ۔  انہوں نے کہا کہ ان شہدا کی قربانیوں ہی کی بدولت ہم اپنے گھروں میں چین سے زندگی بسر کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آخری بار جب میرا بیٹا عید پر آیا تو واپس جاتے ہوئے 3 بار وہ پلٹا اور اپنی 2 سالہ بیٹی کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

حوالدار وحید احمد شہید کے بیٹے نے کہا کہ میں 7 سال کا تھا تو میرے بابا شہید ہوگئے اور ہمیں عید پر ان کی بہت یاد آتی ہے۔ ان کی بیوہ نے کہا کہ عید کے موقع پر مجھے میرے شوہر کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کی بہت

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق