حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کے سبب معیشت مستحکم ہوچکی، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فعال قیادت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی جامع حکمت عملی کے سبب پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک نے بھی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کا مکمل ساتھ دیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر نمایاں پیش رفت کی ہے اور پوری دنیا نے پاکستان کی کامیابی کا اعتراف کیا ہے۔
وزیر اعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اسے انتہائی کامیاب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عید کے دنوں میں مختلف مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور انہیں عید کی مبارکباد پیش کی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک کی سیاسی قیادت بشمول گورنرز، وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء کو بھی ٹیلی فون کیا اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی پوری توجہ اب معیشت پر مرکوز ہے جو کہ حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مستحکم ہو چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ تارڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عطااللہ تارڈ اللہ تارڑ نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔