ہیوسٹن میں سکھوں اور کشمیریوں کا بھارت کے خلاف مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
امریکا کے شہر ہیوسٹن میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے سکھوں اور کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: گولڈن ٹیمپل پر آپریشن بلیو اسٹار کو 41 برس مکمل، بھارتی سکھوں کے زخم آج بھی تازہ
احتجاجی مظاہرے کی کال سکھ تنظیموں اور فرینڈز آف کشمیر نے دی تھی ، جس کا انعقاد 1984 میں بھارت میں سکھوں کے قتل عام اور گولڈن ٹیمپل پر حملے کی برسی کے موقعے پر کیا گیا تھا۔
بھارتی سفارتے خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے ہاتھوں میں خالصتان ، آزاد کشمیر ، پاکستان اور امریکا کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
اس موقعے پر خالصتان کےقیام اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے۔
احتجاجی مظاہرے سے فرینڈز آف کشمیر کی چیئر پرسن غزالہ حبیب ، سکھ رہنما ڈاکٹر ہردم سنگھ آزاد ، سکھ ویندر سنگھ ، گورمیل سنگھ ، دیان سنگھ ودیگر نے خطاب کیا۔
مزید پڑھیے: واشنگٹن، بھارتی وفد سکھوں کو دیکھ کر پارکنگ میں چھپ گیا
خطاب کے دوران مقررین نے کہا کہ مودی سرکار نے سکھوں اور کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے اور بھارتی حکومت کی ریاستی دہشت گردی دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشتگرد ملک ہے اور دوسرے ملکوں میں شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا ہے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بھارتی ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ہیوسٹن ہیوسٹن میں بھارت کے خلاف مظاہرہ ہیوسٹن میں سکھ اور کشمیریوں کا مظاہرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ہیوسٹن اور کشمیریوں ہیوسٹن میں
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔