WE News:
2026-07-24@05:24:41 GMT

ہیوسٹن میں سکھوں اور کشمیریوں کا بھارت کے خلاف مظاہرہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT

ہیوسٹن میں سکھوں اور کشمیریوں کا بھارت کے خلاف مظاہرہ

امریکا کے شہر ہیوسٹن میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے سکھوں اور کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گولڈن ٹیمپل پر آپریشن بلیو اسٹار کو 41 برس مکمل، بھارتی سکھوں کے زخم آج بھی تازہ

احتجاجی مظاہرے کی کال سکھ تنظیموں اور فرینڈز آف کشمیر نے دی تھی ، جس کا انعقاد 1984 میں بھارت میں سکھوں کے قتل عام اور گولڈن ٹیمپل پر حملے کی برسی کے موقعے پر کیا گیا تھا۔

بھارتی سفارتے خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے ہاتھوں میں خالصتان ، آزاد کشمیر ، پاکستان اور امریکا کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔

اس موقعے پر خالصتان کےقیام اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

احتجاجی مظاہرے سے فرینڈز آف کشمیر کی چیئر پرسن غزالہ حبیب ، سکھ رہنما ڈاکٹر ہردم سنگھ آزاد ، سکھ ویندر سنگھ ، گورمیل سنگھ ، دیان سنگھ ودیگر نے خطاب کیا۔

مزید پڑھیے: واشنگٹن، بھارتی وفد سکھوں کو دیکھ کر پارکنگ میں چھپ گیا

خطاب کے دوران مقررین نے کہا کہ مودی سرکار نے سکھوں اور کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے اور بھارتی حکومت کی ریاستی دہشت گردی دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دہشتگرد ملک ہے اور دوسرے ملکوں میں شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا ہے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بھارتی ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ہیوسٹن ہیوسٹن میں بھارت کے خلاف مظاہرہ ہیوسٹن میں سکھ اور کشمیریوں کا مظاہرہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ہیوسٹن اور کشمیریوں ہیوسٹن میں

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا