پاکستان میں ساڑھے 7 لاکھ شہریوں کیلیے صرف ایک ڈاکٹردستیاب ہے
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (انٹرنیشنل ویب ڈیسک) پاکستان میں ساڑھے7 لاکھ شہریوں کیلیے صرف ایک ڈاکٹردستیاب ہونے کا حیران کن انکشاف۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی سروے رپورٹ میں ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔ جس میں آگاہ کیا گیا کہ اس وقت میں ملک میں ساڑھے7 لاکھ شہریوں کے لیے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے بلکہ صحت کے اخراجات جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
سروے رپورٹ 2024 ءاور 25ءمیں انکشاف ہوا ہے کہ جاری مالی سال میں صحت کا مجموعی بجٹ 925 ارب روپے رہا جبکہ ایک سال میں ڈاکٹروں کی تعداد میں20 ہزار سے زائد اضافہ ہوا اور ملک بھر میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 3 لاکھ 19 ہزار ہو گئی ہے۔
سروے کے مطابق ملک میں ڈینٹسٹ ڈاکٹرز کی تعداد 39 ہزار سے متجاوز ہے جبکہ نرسز کی تعداد 1 لاکھ 38 ہزار، دائیوں کی تعداد 46 ہزار 801 اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 29 ہزار ہے۔
اسی طرح ملک میں اسپتالوں کی تعداد 1696 اور بنیادی ہیلتھ یونٹس 5434 ہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ 1 ہزار شیر خوار بچوں میں سالانہ 50 فوت ہو جاتے ہیں۔
جبکہ ملک میں اوسطاً عمر کا اندازہ 65 سال سے متجاوز ہے جبکہ اوسطاً عمر 67 سال 6 ماہ تک پہنچ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی 75 لاکھ کھالیں جمع ہوئیں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی 75 لاکھ کھالیں جمع ہوئیں جس سے8.7 ارب روپے کی معاشی سرگرمی متوقع ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک دہائی کے دوران قربانی کے جانوروں کی تعداد 17 فیصد بڑھی ہے۔
اس سال 28 لاکھ گائے بیلوں، 43 لاکھ بکروں، 5 لاکھ بھیڑوں اور 30 ہزار اونٹوں کی کھالیں حاصل ہونےکا امکان ہے۔
ان کھالوں سے 9 سال میں چمڑے کی صنعت منافع بخش تیار مصنوعات کی طرف منتقل ہوئی جب کہ پاکستانی برآمدات میں چمڑے سے تیار مصنوعات کا حجم 694.20 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :