ماڈل کالونی پلاٹ نمبر18سویٹ ہوم ، پلاٹ نمبر19/2اور19/1 پر کمر شل تعمیرات کی اعلانیہ چھوٹ
5سال سے قابض ہے ، منظم طریقے سے خلاف ضابط تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ،ذرائع
محصولات کاقوی نقصان ، عمارتیں انسانی جانوں کیلیے بنی خطرہ ، کورنگی ، شاہ فیصل ٹاؤن میں خطرناک تعمیر

بلند عمارتوں کی تعمیر سے کراچی کے مستقبل کو خطرات لاحق ذاتی مفادات کے حصول کو فرائض پر ترجیح ملکی محصولات کو نقصان اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی نے پلاٹ نمبر 18 سویٹ ہوم پلاٹ 19/1+ 19/2 پر تجارتی مقاصد کے لئے تعمیر زلزلوں کی صورت میں انسانی قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں رائج سسٹم میں ذاتی مفادات کے حصول کو فرائض پر ترجیح دینے کی روایت عرصہ دراز سے قائم و دائم ہے بلڈنک افسران ملکی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور دیگر مراعات لینے کے باوجود بھی حرص زر میں مبتلا ہیں جسکے حصول کے لئے ملکی محصولات کو بھاری نقصان پہنچا کر شہر بھر میں بغیر نقشے اور منظوری کے رہائشی پلاٹوں پر کمزور عمارتیں تعمیر کروائی جا رہی ہیں زلزلوں کی صورت میں کراچی کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہیں کمزور عمارتوں کی تعمیر سے قیمتی انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں جرآت سروے کے دوران یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ضلع کورنگی کے علاقے شاہ فیصل ٹان ماڈل کالونی میں بھی رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے جس کی سرپرستی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کر رہے ہیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق موصوف ماڈل کالونی پرعرصہ 5 سال سے قابض ہیں منظم طریقے سے بلند عمارتوں کی تعمیر شروع کروا رکھی ہے اسوقت بھی ماڈل کالونی پلاٹ نمبر 18 سویٹ ہوم پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ جبکہ پلاٹ نمبر 19/1+ 19/2 دو مشترکہ پلاٹوں پر تجارتی مقاصد کے لئے تعمیرات کی جاری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ماڈل کالونی

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا