نان فائلرز کو بینک سے 50 ہزار سے زائد کیش نکلوانے پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟ بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) نیا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں نان فائلرز کیلئے مزید سختیاں کیئے جانے کا امکان ہے ۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق یوٹیوبرز، فری لانسرز اور نان فائلرز کے لیے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ ریٹیلرز پر ٹیکس وصولی کو بھی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نان فائلرز سے جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کیے جانے اور بینک سے 50 ہزار روپے سے زیادہ کیش نکلوانے پر ٹیکس کی شرح 0.
بجٹ 2025-26، نقد پیٹرول ڈلوانے پر کتنے روپے اضافی ادا کرنے ہوں گے؟ بڑا فیصلہ
وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں 120 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی این 5 شاہراہ کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ریاستی ملکیتی اداروں کے ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 355 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب صوبوں کو 8 ہزار 206 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے جب کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 3 ہزار 300 ارب روپے ہوگا۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے، گریڈ ایک تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دینے اور پنشنرز کے لیے بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔ پنشن کی مد میں 1 ہزار 55 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
مہنگائی اور قوت خرید: رواں سال عید الاضحیٰ پر قربانی میں کتنی کمی واقع ہوئی؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ کی تیاری کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے اہداف اور اصلاحات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نان فائلرز کی تجویز
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔