سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ،چار تجاویز زیر غور
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ آج وفاقی کابینہ کرے گی۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینے کے لیے چار مختلف تجاویز زیرغور ہیں،تاہم ابھی تک کسی تجویز کو حتمی شکل نہیں دی گئی،ایک اہم تجویزکے تحت گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیئرٹی الاؤنس دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری تجویزکے مطابق مہنگائی کے تناسب سے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے،ایک اورتجویزکے مطابق گزشتہ دو ایڈہاک ریلیف الاؤنسز میں سے ایک کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے،اس کے ساتھ ساتھ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے لیے تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی الگ تجویز بھی تیار کی گئی ہے۔
فیصل قریشی لائیو شو میں سوال پر برہم ہو گئے
ذرائع کے مطابق ان تجاویز پر مشاورت کے بعد ورکنگ پیپر تیار کر لیا گیا ہے، جو آج کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے خواہاں ہیں، جبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی ملازمین کو رعایت دینے کے لیے مثبت مشورے دیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب آرمڈ فورسز کے لیے متعارف کروائی جانے والی کنٹری بیوٹری پنشن سکیم پر عملدرآمد مؤخر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے نافذ کی جانی والی اس سکیم کا اسٹرکچر تاحال مکمل طور پر تیار نہیں ہو سکا، جس کے باعث آرمڈ فورسز کو اس سکیم سے مستثنیٰ دیئے جانے کا امکان ہے۔
نان فائلرز کیلئے بڑی مشکل، بیرون ملک سفری پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز
وفاقی کابینہ آج اجلاس میں تنخواہوں میں اضافے، ایڈہاک ضم کرنے اور پنشن سکیم جیسے اہم معاملات پر حتمی فیصلہ کرے گی جس کے بعد بجٹ دستاویزات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: تنخواہوں میں کے مطابق گئی ہے کے لیے
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین