لاہور ہائیکورٹ:ناقص پراسیکیوشن اور تفتیش، قتل کا مجرم بریلاہور ہائیکورٹ:ناقص پراسیکیوشن اور تفتیش، قتل کا مجرم بری
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن کے باعث ایک اور سنگین مقدمے میں ملزم کو ریلیف مل گیا۔لاہور ہائیکورٹ نے تہرے قتل کے مجرم میسر حسین کی تین بار سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کر دیا۔جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا۔میسر حسین پر 2018 میں نیاز احمد، احمد نیاز اور ان کے ڈرائیور فیض کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ٹرائل کورٹ نے 2021 میں میسر حسین کو تین بار سزائے موت سنائی تھی تاہم اپیل کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے شواہد کی کمزوری اور تفتیشی نقائص کی بنیاد پر فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایک بار پھر پراسیکیوشن کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے جہاں ناقص تفتیش کے باعث سنگین مقدمات میں بھی ملزمان سزا سے بچ نکلتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز