پاکستان اسٹاک مارکیٹ نئی بلندی پر، تمام ریکارڈ توڑ دیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رجحان برقرار ہے اور مثبت بجٹ توقعات پر 100 انڈیکس نئے ریکارڈ کی بلند ترین سطح پر ہے، آج بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 904 پوائنٹس اضافے کے بعد ایک لاکھ 22 ہزار 545 پوائنٹس پر ہے۔
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد کاروبار کے پہلے ہی دن بازارِ حصص میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، منگل کے روز کاروبار کا آغاز 324 پوائنٹس کے اضافے سے ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 21 ہزار 900 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا تھا۔
مارکیٹ میں مسلسل تیزی کا رجحان غالب رہا اور انڈیکس مجموعی طور پر 904 پوائنٹس کے اضافے کے بعد نئی بلند سطح 122545 پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری حجم 26 ارب روپے سے زائد، اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟
ماہر اسٹاک مارکیٹ سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ آج پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے نیا ریکارڈ بنا دیا ہے جس کی بہت سی وجوہات میں سے چند یہ ہیں کہ آج معاشی استحکام ہے، کرنسی مستحکم ہے پاکستان کے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے۔
’غربت میں کمی دیکھنے کو آرہی ہے، اسٹاک مارکیٹ بہت بہتر پرفارم کر رہی ہے، آنے والے بجٹ میں اچھی چیزیں آسکتی ہے اور اگر اچھی خبریں آئیں تو مارکیٹ میں مزید بہتری کی امید ہے۔‘
ماہر اسٹاک مارکیٹ جبران احمد کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے بعد آج کاروباری ہفتے کا پہلا روز تھا اور امید تھی کہ اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار مثبت رہے گا کیوں کہ بجٹ تجاویز کے بعد یہی اندازے تھے کہ بجٹ کے روز اسٹاک مارکیٹ نیا ریکارڈ بنا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایسا کیا ہوا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آگئی؟
’توقعات کے عین مطابق ہم نے دیکھا کہ آج دن کے پہلے حصے میں اسٹاک مارکیٹ نے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے 334 پوائنٹس کا اضافہ کیا اور دوسرے ہاف میں مجموعی طور پر 904 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔‘
جبران احمد کے مطابق گزشتہ سال کی پالیسیوں کے تسلسل اور اس وقت بجٹ سے وابستہ مثبت توقعات نے اسٹاک مارکیٹ کو ریکارڈ بزنس کا موقع فراہم کیا، جو معیشت کی بہتری، عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی طرف اشارہ ہے جو سستی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔
’یہ کہنا تو مشکل ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ آنے والے دنوں میں کہاں تک جا سکتی ہے ہاں البتہ یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس حوصلہ افزا صورتحال میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس اسٹاک مارکیٹ بجٹ تجاویز بینچ مارک پاکستان اسٹاک ایکسچینج پوائنٹس ترسیلات زر جبران احمد رجحان سرمایہ کار عید الاضحی کے ایس ای مثبت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس اسٹاک مارکیٹ بجٹ تجاویز پاکستان اسٹاک ایکسچینج پوائنٹس ترسیلات زر سرمایہ کار عید الاضحی کے ایس ای پاکستان اسٹاک مارکیٹ مارکیٹ میں کے بعد
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔