UrduPoint:
2026-07-24@07:58:03 GMT

اسرائیل نے گریٹا تھنبرگ کو ملک بدر کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

اسرائیل نے گریٹا تھنبرگ کو ملک بدر کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 جون 2025ء) اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ تھنبرگ پرواز کے ذریعے فرانس کے لیے روانہ ہوئیں اور اس کے بعد وہ اپنے آبائی ملک سویڈن روانہ ہو گئیں۔ پیغام کے ساتھ ماحولیاتی کارکن تھنبرگ کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ ہوائی جہاز میں بیٹھی ہوئی ہیں۔

اسرائیل نے غزہ پٹی کے لیے امداد لے جانے والی کشتی روک لی

فریڈم فلوٹیلا پر ڈرون حملہ، بحری جہاز کے ڈوب جانے کا خطرہ

تھنبرگ غزہکے لیے امداد لے جانے والے کشتی میڈلین کے 12 مسافروں میں سے ایک تھیں۔

اس سفر کا انتظام کرنے والی فلسطینی نواز تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے مطابق اس کا مقصد وہاں اسرائیل کی جاری جنگ کے خلاف احتجاج کرنا اور اس فلسطینی علاقے میں انسانی بحران پر روشنی ڈالنا تھا۔

(جاری ہے)

اسرائیلی بحری افواج نے غزہ کے ساحل سے تقریباﹰ 200 کلومیٹر کے فاصلے پر پیر نو جون کی صبح اس کشتی کو قبضے میں لے لیا تھا۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوشش غزہ کی قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق یہ کشتی اسرائیلی بحریہ کے ہمراہ پیر کی شام اسرائیلی بندرگاہ اشدود پہنچی۔ دیگر کارکنوں کو بھی ملک بدری کا سامنا

فریڈم فلوٹیلا کے ساتھ سفر کرنے والے 12 کارکنوں کو حراست میں لے کر اسرائیل لے جایا گیا، جہاں ان کارکنوں کو انسانی حقوق کا ایک اسرائیلی گروپ ادالہ قانونی مدد فراہم کر رہا ہے۔

اس گروپ نے کہا کہ تھنبرگ، دو دیگر کارکنوں اور ایک صحافی نے ملک بدری اور اسرائیل چھوڑنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم دیگر آٹھ کارکنوں نے اپنی ملک بدری سے انکار کر دیا، جنہیں حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کے کیس کی سماعت اسرائیلی حکام کریں گے۔ ادالہ گروپ کے مطابق ان کارکنوں کو آج منگل کو ایک عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

اسرائیل کی وزارت داخلہ کی ترجمان سبین حداد کے مطابق جن کارکنوں کو منگل کے روز ملک بدر کیا جا رہا تھا، وہ جج کے سامنے پیش ہونے کے اپنے حق سے دستبردار ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ایسا نہیں کیا، ان کو ملک بدر کرنے سے پہلے 96 گھنٹوں تک حراست میں رکھا جائے گا۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی میڈیلین نامی کشتی پر یورپی پارلیمنٹ کی فلسطینی نژاد فرانسیسی رکن ریما حسن بھی موجود تھیں۔ اس سے قبل فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے انہیں اسرائیل میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جا رہا ہے یا حراست میں لیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے فرانسیسی کارکنوں میں سے ایک نے اپنی ملک بدری کے حکم نامے پر دستخط کیے اور وہ آج منگل کو ہی اسرائیل سے فرانس کے لیے روانہ ہو جائیں گے، باقی پانچ نے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام کارکنوں سے قونصلر نے ملاقاتیں کی ہیں۔

ملک بدر کیے جانے والے ہسپانوی کارکن سرجیو توریبیو نے بارسلونا پہنچنے کے بعد اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کی: ''یہ ناقابل معافی ہے، یہ ہمارے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بین الاقوامی پانیوں میں قزاقوں کا حملہ ہے۔‘‘

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر سوالات

پیر کے روز انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم ادالہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کے پاس اس کشتی کو تحویل میں لینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، کیونکہ یہ بین الاقوامی پانیوں میں تھی اور یہ کہ یہ کشتی اسرائیل کی طرف نہیں بلکہ فلسطینی علاقائی پانیوں کی طرف جا رہی تھی۔

ادالہ نے ایک بیان میں کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے لیے سویلین انداز میں کام کرنے والے نہتے کارکنوں کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسرائیل ''بحری حملے‘‘ کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔ اسرائیل نے اس کشتی کے سفر کو ایک 'پبلسٹی اسٹنٹ‘ قرار دیتے ہوئے اسے 'سیلفی کشتی‘ قرار دیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا بہت ہی معمولی امداد لے کر آ رہا تھا، جس پر ایک ٹرک لوڈ سے بھی کم امدادی سامان موجود تھا۔

اے پی، روئٹرز کے ساتھ

ادارت: امتیاز احمد، مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی قوانین فریڈم فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ کی خلاف ورزی اسرائیل کی کارکنوں کو کے مطابق ملک بدری ملک بدر کے لیے رہا ہے نے کہا کہا کہ اور اس

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم