بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 716 ارب مختص کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
مالی سال 26-2025ء کے بجٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت بی آئی ایس پی کی کوریج کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، اسے عملی جامہ پہنانے کےلیے کفالت پروگرام کو 1 کروڑ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ اگلے مالی سال میں بی آئی ایس پی کے لیے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کے پچھلے سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ ہماری حکومت ایک جامع اور موثر سماجی تحفظ کے نظام کے ذریعے معاشرے کے کمزور ترین طبقات کے تحفظ کےلیے پرعزم ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 25-2024ء میں بی آئی ایس پی نے کم آمدنی والے خاندانوں کو معاشی مشکلات سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں مزید بتایا کہ 592 ارب کے مختص فنڈز میں سے ایک کثیر رقم کے ذریعے 99 لاکھ مسحق خاندانوں کی غیر مشروط نقد امداد فراہم کی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ 1 کروڑ 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی گئی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ بی آئی ایس پی کے نشو ونما پروگرام کے 15 لاکھ ماؤں اور ان کے 16 لاکھ سے زائد بچوں کو نقد امداد اور غذائیت پر مبنی خصوصی خوراک فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت مالی شمولیت کے فروغ کےلیے سال بھر میں 2لاکھ 50 ہزار مستحقین کو فنانشل لٹریسی کی تربیت دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بی ا ئی ایس پی کہا کہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔