گراس اسکول میں فائرنگ: آسٹریا میں تین روزہ سوگ
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جون 2025ء) آسٹریا کی پولیس کو مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے 21 سالہ مسلح شخص کے گھر سے ایک غیر فعال گھریلو ساختہ بم اور ایک الوداعی خط ملا ہے۔ پولیس کے مطابق شاٹ گن اور پستول سے لیس مشتبہ شخص نے منگل 10 جون کو گراس شہر کے ڈرایئر شؤٹزن گاسے ہائی اسکول میں فائرنگ کر کے 10 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور اس کے بعد اس نے خودکشی کر لی۔
اس حملے میں ایک درجن کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص اسی اسکول کا سابق طالب علم تھا اور یہ کہ اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی تھی۔
لوگ سوگ میں، تفتیش کار محرکات کی تلاش میں
گراس کے اسکول میں فائرنگ کے اس واقعے کو دوسری عالمی جنگ کے بعد آسٹریا میں ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
(جاری ہے)
اس واقعے کے حوالے سے آج بدھ کی صبح 10 بجے مقامی وقت کے مطابق ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔آسٹریا کی وزارت داخلہ کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹر فرانز رُف کے مطابق حملہ آور کے خط میں اس کی طرف سے اپنے والدین کو الوداع کہا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ''اس الوداعی خط سے اس واقعے کے محرک کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘‘ اور یہ کہ تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا متاثرین کو چن کر نشانہ بنایا گیا تھا یا کھلی فائرنگ کی گئی۔
آسٹریا میں تین روزہ قومی سوگ منایا جا رہا ہے، جبکہ گراس میں مقامی افراد نے شہر کے مرکزی چوک پر موم بتیاں روشن کیں اور پھول چڑھائے۔ بہت سے لوگ زندہ بچ جانے والوں کے لیے خون کا عطیہ دینے کے لیے قطار میں لگے رہے۔
آسٹریا میں اسلحے کے قوانین کیا ہیں؟
دریں اثنا حملہ آور کی جانب سے قانونی آتشیں اسلحے کے استعمال نے آسٹریا کے اسلحے کے قوانین پر ایک بار پھر بحث کو جنم دیا ہے۔
’سمال آرمز سروے ریسرچ پراجیکٹ‘ کے مطابق آسٹریا میں ہر 100 افراد میں سے تقریباﹰ 30 کے پاس سویلین آتشیں اسلحہ موجود ہیں۔
اس یورپی ملک نے آٹومیٹک ہتھیاروں اور پمپ ایکشن گنز پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ ریوالور، پستول اور نیم خودکار ہتھیاروں کو اجازت نامے کے ساتھ رکھنے کی اجازت ہے۔
رائفلوں اور شاٹ گنوں کے لائسنس، شکار کے لیے یا شوٹنگ کلبوں کے ارکان کو دینے کی اجازت ہے۔
ادارت: امتیاز احمد
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آسٹریا میں کے مطابق
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔