جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کا وفاقی بجٹ پر تحفظات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
اپنے بیان میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں جامعات کیلئے مختص بجٹ کو انتہائی کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے دور میں اساتذہ کے مشکلات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے رہنماء پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ و دیگر نے وفاقی حکومت کی جانب سے 2025-26 کیلئے پیش کردہ بجٹ کو سرکاری ملازمین خاص کر ملک بھر کی سرکاری جامعات اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لئے مختص رقم کو انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وفاقی حکومت 2018 سے ملک بھر کی سرکاری جامعات اور ایچ ای سی کے لئے سالانہ 65 ارب روپے مختص کرتی چلی آرہی ہے، جبکہ یونیورسٹیوں اور اساتذہ کرام سمیت ایمپللائز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی ہوش ربا اضافہ ہوا۔ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے لئے 10 فیصد اور پینشنز میں 7 فیصد اضافہ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ بیان میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان عوامی پارٹی اپنے انتخابی منشور و وعدے کے مطابق اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں 50 فیصد اور ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور ایچ ای سی کے لئے کم ازکم 200 ارب روپے مختص کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور آفیسران کو عید قربان پر تنخواہوں اور پنشنز سے محروم رکھا گیا۔ اب عیدالاضحٰی گزرنے کے بعد فوری طور پر مئی کے مہینے کی پوری تنخواہ اور پینشنز کی ادائیگی کی جائے اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ آنے والے سالانہ بجٹ میں صوبے کی یونیورسٹیوں کے لئے کم ازکم 15 ارب مختص کرکے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے ماہانہ تنخواہوں اور پنشنز کو انکی ضروریات کے مطابق ادائیگی کی جائے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کی جاری احتجاجی تحریک میں بھرپور حصہ لیا جائے گا۔ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاؤنسز کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا اور تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی کا مستقل حل نہ نکالا تو اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز جامعات بلوچستان فپواسا اور گرینڈ الائنس کی پلیٹ فارم سے کلاسسز کے بائیکاٹ اور قلم چھوڑ ہڑتال شروع کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تنخواہوں اور پنشنز وفاقی حکومت کے لئے
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔