اپنے بیان میں گرینڈ الائنس کے رہنماؤں جامعات کیلئے مختص بجٹ کو انتہائی کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے دور میں اساتذہ کے مشکلات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے رہنماء پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ و دیگر نے وفاقی حکومت کی جانب سے 2025-26 کیلئے پیش کردہ بجٹ کو سرکاری ملازمین خاص کر ملک بھر کی سرکاری جامعات اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لئے مختص رقم کو انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وفاقی حکومت 2018 سے ملک بھر کی سرکاری جامعات اور ایچ ای سی کے لئے سالانہ 65 ارب روپے مختص کرتی چلی آرہی ہے، جبکہ یونیورسٹیوں اور اساتذہ کرام سمیت ایمپللائز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی ہوش ربا اضافہ ہوا۔ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے لئے 10 فیصد اور پینشنز میں 7 فیصد اضافہ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ بیان میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان عوامی پارٹی اپنے انتخابی منشور و وعدے کے مطابق اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں 50 فیصد اور ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور ایچ ای سی کے لئے کم ازکم 200 ارب روپے مختص کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور آفیسران کو عید قربان پر تنخواہوں اور پنشنز سے محروم رکھا گیا۔ اب عیدالاضحٰی گزرنے کے بعد فوری طور پر مئی کے مہینے کی پوری تنخواہ اور پینشنز کی ادائیگی کی جائے اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ آنے والے سالانہ بجٹ میں صوبے کی یونیورسٹیوں کے لئے کم ازکم 15 ارب مختص کرکے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے ماہانہ تنخواہوں اور پنشنز کو انکی ضروریات کے مطابق ادائیگی کی جائے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کی جاری احتجاجی تحریک میں بھرپور حصہ لیا جائے گا۔ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاؤنسز کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا اور تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی کا مستقل حل نہ نکالا تو اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز جامعات بلوچستان فپواسا اور گرینڈ الائنس کی پلیٹ فارم سے کلاسسز کے بائیکاٹ اور قلم چھوڑ ہڑتال شروع کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تنخواہوں اور پنشنز وفاقی حکومت کے لئے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا