حملہ ہوا تو مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایرانی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
TEHRAN:
ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادے نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایسی صورت میں ہم مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بلا جھجک نشانہ بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی جنگ کی خواہش نہیں رکھتا لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے نقصانات ایران کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوں گے۔
ناصر زادے نے امید ظاہر کی کہ جاری جوہری مذاکرات مثبت نتائج لائیں گے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ایران بھرپور ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے تمام اڈے ایران کی پہنچ میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں امریکا کو خطہ چھوڑنا پڑے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ چھٹے دور کے مذاکرات اتوار کو مسقط میں متوقع ہیں، جب کہ امریکا نے بحرین و عراق سے غیر سفارتی عملے کو واپس بلانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔