ہم اپنے فطری حقوق سے محرومی کو کبھی قبول نہ کرینگے، سید عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اوسلو فورم کیساتھ اپنے خطاب میں امریکہ کیساتھ مذاکرات کے بارے ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر پوری توجہ قوم کیخلاف غیر قانونی پابندیوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے اور ایرانی جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہو تو یقینی طور پر نہ صرف ایک معاہدہ دسترس میں ہے بلکہ اسے تیزی کیساتھ حاصل بھی کیا جا سکتا ہے! اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج اوسلو فورم کے ساتھ خطاب کیا جس کے دوران انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق مختلف مسائل کی وضاحت کی ہے۔ 22ویں اوسلو عالمی فورم میں شرکت کے لئے ناروے میں موجود ایرانی وزیر خارجہ نے فلسطینی سرزمین پر 80 سالہ ناجائز قبضے اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری غاصب صیہونی رژیم کے کھلے جنگی جرائم پر روشنی ڈالتے ہوئے تاکید کی کہ مغربی ایشیائی خطے کا ایک مختلف مستقبل مسئلہ فلسطین کے پائیدار و منصفانہ حل کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔
قابض اسرائیلی رژیم کے حامیوں کی شدید مذمت کرتے اور انہیں سفاک صیہونی رژیم کے کھلے جنگی جرائم میں برابر کا شریک قرار دیتے ہوئے سید عباس عراقچی نے کہا کہ گذشتہ 8 دہائیوں میں عالمی برادری کی سب سے واضح شکست انصاف کے نفاذ اور فلسطینیوں کے بنیادی و انسانی حقوق کو یقینی بنانے میں ناکامی ہے، جبکہ یہ مسئلہ خطے میں مسلسل کشیدگی اور بحران کا سبب بھی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کے بارے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مستقل پالیسی فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت، ناجائز قبضے و فلسطینی عوام کی استعماری انداز میں جاری نسل کشی کی مخالفت اور فلسطین کے اصلی باشندوں کے ریفرنڈم کے ذریعے واحد فلسطینی ریاست کی تشکیل ہے۔
خطے کی اقوام کی ان گنت و دیرینہ مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ خطے کے ممالک کو، مستقل ہمسایوں کی حیثیت سے، اپنے مشترکہ ورثے اور فراواں تاریخی، ثقافتی و مذہبی رشتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اس پورے علاقے کو ایک محفوظ و ترقی یافتہ خطہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ سید عباس عراقچی نے ایران و امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کی جانب بھی اشار کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر توجہ ایرانی قوم کے خلاف عائد غیر قانونی پابندیوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے پر ہو.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ نے سید عباس عراقچی نے فلسطین کے کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔