اوسلو فورم کیساتھ اپنے خطاب میں امریکہ کیساتھ مذاکرات کے بارے ایرانی وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر پوری توجہ قوم کیخلاف غیر قانونی پابندیوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے اور ایرانی جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہو تو یقینی طور پر نہ صرف ایک معاہدہ دسترس میں ہے بلکہ اسے تیزی کیساتھ حاصل بھی کیا جا سکتا ہے! اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج اوسلو فورم کے ساتھ خطاب کیا جس کے دوران انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق مختلف مسائل کی وضاحت کی ہے۔ 22ویں اوسلو عالمی فورم میں شرکت کے لئے ناروے میں موجود ایرانی وزیر خارجہ نے فلسطینی سرزمین پر 80 سالہ ناجائز قبضے اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری غاصب صیہونی رژیم کے کھلے جنگی جرائم پر روشنی ڈالتے ہوئے تاکید کی کہ مغربی ایشیائی خطے کا ایک مختلف مستقبل مسئلہ فلسطین کے پائیدار و منصفانہ حل کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔

قابض اسرائیلی رژیم کے حامیوں کی شدید مذمت کرتے اور انہیں سفاک صیہونی رژیم کے کھلے جنگی جرائم میں برابر کا شریک قرار دیتے ہوئے سید عباس عراقچی نے کہا کہ گذشتہ 8 دہائیوں میں عالمی برادری کی سب سے واضح شکست انصاف کے نفاذ اور فلسطینیوں کے بنیادی و انسانی حقوق کو یقینی بنانے میں ناکامی ہے، جبکہ یہ مسئلہ خطے میں مسلسل کشیدگی اور بحران کا سبب بھی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کے بارے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مستقل پالیسی فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت، ناجائز قبضے و فلسطینی عوام کی استعماری انداز میں جاری نسل کشی کی مخالفت اور فلسطین کے اصلی باشندوں کے ریفرنڈم کے ذریعے واحد فلسطینی ریاست کی تشکیل ہے۔

خطے کی اقوام کی ان گنت و دیرینہ مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ خطے کے ممالک کو، مستقل ہمسایوں کی حیثیت سے، اپنے مشترکہ ورثے اور فراواں تاریخی، ثقافتی و مذہبی رشتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اس پورے علاقے کو ایک محفوظ و ترقی یافتہ خطہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ سید عباس عراقچی نے ایران و امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کی جانب بھی اشار کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر توجہ ایرانی قوم کے خلاف عائد غیر قانونی پابندیوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے پر ہو.

. اور اگر ہدف ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کو یقینی بنانا ہو.. تو یقینی طور پر ایک معاہدہ؛ نہ صرف دسترس میں ہے، بلکہ تیزی کے ساتھ طے بھی پا سکتا ہے۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں سید عباس عراقچی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ایران فطری طور پر، اپنے بین الاقوامی حقوق سے خارج ہونے یا اپنے واضح حقوق سے محروم کر دیئے جانے کو کسی صورت قبول نہیں کر سکتا!!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ نے سید عباس عراقچی نے فلسطین کے کرتے ہوئے کہا کہ

پڑھیں:

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں

تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔

مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔

ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی