وفاقی وزیر بحری امور کا سمندری اصلاحاتی ایجنڈا کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(آن لائن)وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چودھری نے سمندری اصلاحاتی ایجنڈا کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری ٹائم شعبے میں پائیدار ترقی کو فروغ دیں گے‘نجی شعبے کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔ماہی گیری کے شعبے میں جدید تربیتی مرکز قائم کر رہے ہیں۔ فشریز سینٹر میں تین سال میں 300 تربیتی سیشنز کا ہدف ہے۔یہاں بندرگاہوں اور فشریز سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے جنید انوار چودھری نے کہا کہ میری ٹائم شعبے میں پائیدار ترقی کو فروغ دیں گے۔ پورٹ قاسم کے 10 سالہ ترقیاتی منصوبے کا آغاز کر دیا ھے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ جدید انفراسٹرکچر اور کارگو ہینڈلنگ پر کام جاری ھے۔ کراچی پورٹ میں
اصلاحاتی حکمت عملی پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ جنید انوار چودھری نے کہا کہ ماحولیاتی استحکام کے لئے نئی بحری پالیسی نافذ کر رہے ہیں۔ جنید انوار چودھری کے پی ٹی میں تیل کے رساؤ کی ہنگامی مشقوں کا کامیاب انعقاد کیا ھے۔ماہی گیری کے شعبے میں جدید تربیتی مرکز قائم کر رہے ہیں۔ فشریز سینٹر میں تین سال میں 300 تربیتی سیشنز کا ہدف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنید انوار چودھری
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔