پاکستان کے متنازع یوٹیوبر رجب بٹ نے حال ہی میں اپنے اوپر لگنے والے زیادتی و بلیک میلنگ کے الزامات اور درج مقدمے پر ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

رجب بٹ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئی ویڈیو وائرل جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یوٹیوبر پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

رجب بٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک اسٹوری شیئر کرتے ہوئے خاتون کی جانب سے مقدمہ درج کروانے کو شہرت حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔

View this post on Instagram

A post shared by Viralverse | Viral News & Trends (@viralverse)


اکثر اوقات ہی تنازعات میں گھرے رہنے والے یوٹیوبر و ٹک ٹاکر نے خاتون کا نام لیے بغیر کہا، ’پُتری، جہاں تک زور لگانا ہے لگا لو، میں تمہارا نام اپنے منہ سے کبھی نہیں لوں گا، نہ تمہارے حق میں اور نہ تمہارے خلاف۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں کیا کروں؟ تمہیں شہرت دے دوں یا پھر سلیبرٹی بنا دوں؟ چلو میں تمہیں اسٹار بنا دیتا ہوں، جہاں تک تم زور لگا سکتی ہو زور لگا لو میں مگر میں تمہارا نام نہیں لوں گا۔

رجب بٹ کی اس ویڈیو کو متعدد انٹرٹینمنٹ پیجز کی جانب سے شیئر کیا گیا ہے جس کے کمنٹ باکس میں نیٹیزنز یوٹیوبر کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کسی صارف نے رجب بٹ کو ’مغرور‘ قرار دیا ہے تو کسی کا کہنا ہے کہ ’رجب بٹ پاکستان آنے کے بعد اپنا ماضی بھول گیا ہے، یوٹیوبر خود مِنتوں کے بعد پاکستان پہنچا تھا، اسے کوئی دیکھنا بھی نہیں چاہتا ہے‘۔

صارفین کا طنزیہ کمنٹس میں کہنا ہے کہ رجب بٹ خود صرف ایک یوٹیوبر ہے، یہ کسی کو کیسے اسٹار بنانے کی باتیں کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 9 جون کو لاہور پولیس نے یوٹیوبر رجب بٹ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف زیادتی اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کیا تھا۔

مقدمہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ شرافت کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں رجب بٹ، مان ڈوگر، جواد حیدر، جہانگیر بٹ اور سلمان حیدر کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر دوستی کے بعد نشہ آور چیز پلا کر زیادتی کی گئی اور نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کیا گیا گیا ہے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا