اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 3 جولائی 2025ء) آپ کے اکاؤنٹس اور فنڈز محفوظ ہیںیہ ہے وہ سب کچھ جو آپ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کیش ڈپازٹرز کے لیے بائیومیٹرکس کی شرط کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں موبائل مالیاتی سروسز اور ڈیجیٹل والٹس کے تیز رفتار پھیلاؤ کے ساتھ، زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے کیش لیس لین دین کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں ایزی پیسہ سمیت کئی پلیٹ فارمز نے مالیاتی خدمات کو باآسانی اور سہولت سے فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم جیسے جیسے ان سروسز کا استعمال بڑھتا جارہا ہے ویسے ہی صارفین کو دھوکہ دہی اور غلط استعمال سے بچانے کے لیے بہتر سکیورٹی اقدامات کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔

(جاری ہے)

یکم جولائی 2025 سے ان پلیٹ فارمز کے صارفین کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے قواعد کے مطابق ریٹیلرز کے ذریعے کیش ٹرانزیکشن کرتے وقت بائیومیٹرک تصدیق کرانا لازمی ہوگی۔


کسی بھی نئے ضابطے کی طرح سوشل میڈیا پر افواہیں اور غلط خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ یہاں چند افواہوں کی وضاحت کی جا رہی ہے:
نہ تو کوئی اکاؤنٹ بلاک ہوگا، اور نہ ہی آپ کے فنڈز کو کوئی خطرہ ہے۔
بائیومیٹرک تصدیق کی شرط کے باعث کوئی اکاؤنٹ بلاک نہیں ہوگا، آپ کے فنڈز بالکل محفوظ رہیں گے۔ اس نئے ضابطے کا آپ کے اکاؤنٹس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔


کیا آن لائن ٹرانزیکشنز متاثر ہوں گی؟
نہیں! صارفین اپنی آن لائن ٹرانزیکشنز پہلے کی طرح معمول کے مطابق کر سکیں گے۔
تو پھر کیا تبدیل ہو رہا ہے؟
بائیو میٹرک تصدیق کے لیے ہمارے ریٹیل ایجنٹس اپنی مقررہ جگہوں پر صارفین کو رقم جمع کرانے اور نکالنے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سہولت صرف بائیومیٹرک تصدیق کے بعد ہی دستیاب ہوگی۔

بغیر تصدیق کے رقم جمع کرانے یا نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ کیوں کیا جا رہا ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بائیومیٹرک تصدیق کی شرط ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنائے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام ڈپازٹس محفوظ اور درست طریقے سے پراسیس ہوں۔
ایک صارف کے طور پر یہ دراصل آپ کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جس کا مقصد سکیورٹی کو بہتر بنانا اور ملک بھر کے لاکھوں موبائل والٹ صارفین کے لیے لین دین کو مزید محفوظ بنانا ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک اپنی بائیومیٹرکس نہیں کرائی ہیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔اگلی بار جب آپ کسی ریٹیلر کے پاس جائیں تو اپنی بائیومیٹرکس مکمل کروا کر اس محفوظ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے قیام میں اپنا حصہ ڈالیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بائیومیٹرک تصدیق کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف