جنوبی کوریا کی دبلی پتلی اور مقبول ترین یو ٹیوبر28 سالہ زویانگ ایک ہی نشست میں بے تحاشہ کھانا کھاکر لوگوں کو حیران کردیتی ہیں۔ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ اس بسیار خوری سے ان کے نرم و نازک جسم پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا اور وزن جوں کا توں رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مرد زیادہ گوشت کھاتے ہیں یا خواتین، نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟

زویانگ کا جسم طویل عرصے سے آن لائن مباحثوں اور سازشی نظریات کا موضوع رہا ہے۔ مکبانگ )خود کو آن لائن کھانا کھاتے ہوئے دکھانے والے اسٹریمرز) اسٹریم کرنے والوں پر اکثر اپنی ویڈیوز کو تیز کرکے یا ان کے کچھ حصوں کو کاٹ کر ’جعلی کھانے‘ کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن زویانگ کے خلاف ایسا کوئی ثبوت تاحال نہیں مل سکا ہے۔

کچھ لوگ قیاس کرتے ہیں کہ وہ ’ایٹنگ ڈس آرڈر‘ کا شکار ہیں لیکن وہ ہمیشہ بہت صحت مند ہی دکھائی دیتی ہیں اور کبھی بھی ایسا نہیں لگا کہ وہ جسمانی طور پر کسی مسئلے کا شکار ہوں۔

وہ اپنے زیادہ تر مکبانگ سیشنز کو مختلف ریستورانوں سے لائیو اسٹریم کرتی ہیں اور تقریباً کبھی بھی بریک نہیں لیتیں یا کیمرے سے باہر نہیں جاتی اور بجائے اس کے کہ وہ ایک ہی نشست میں درجنوں کھانے کھاجاتی ہیں اور بعض اوقات دن میں ایک سے زیادہ بار ایسا ہی عمل دہراتی ہیں۔

لوگوں کو اس بات کی حیرانی ہے کہ وہ روزانہ 10،000 کیلوریز سے زیادہ کا کھانا کھالیتی ہیں پھر بھی ان کا وزن کیوں نہیں بڑھتا۔

مزید پڑھیے: سنہ 2050 تک دنیا کے کتنے فیصد بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہوچکے ہوں گے؟

اپنے مکبانگ سلسلے میں سے ایک کے دوران کوریا کی سب سے مشہور یوٹیوبر نے 20 ہیمبرگر، 20 رامین نوڈلز، 3 کلو گوشت، 240 سوشی (کچی مچھلی) کے ٹکڑے اور 16 میٹر طویل گائے کی آنتیں کھائیں۔ ایک اور بار انہوں نے ایک ہی نشست میں 10 میٹر کوریائی چاول کے کیک، 100 جھینگے، 200 گھونگھے اور 140 بھنے ہوئے بھیڑ کے گوشت کی سیخیں ہڑپ کیں۔

اس قسم کے کارناموں کے باعث ان کے متعدد سوشل نیٹ ورکس پر ملینز کی تعداد میں فالوورز ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اتنا زیادہ کھانے اور کوئی ورزش بھی نہ کرنے کے باوجود ان کا وزن 50 کلوگرام ہی رہتا ہے۔ اس پر ان کے ناقدین تشکیک کا ہی شکار رہتے ہیں لیکن نوجوان اسٹریمر نے حال ہی میں ایک کلینک سے ایک ویڈیو پوسٹ کی جہاں انہوں نے اپنے پیٹ کے حیرت انگیز رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے گیسٹرو اسکوپی اور کالونو اسکوپی دونوں کروائیں۔

ڈاکٹر سیو گل نے 28 سالہ مکبانگ ملکہ کو بتایا کہ اسی طرح کی دیگر خواتین کے مقابلے میں آپ کا معدہ بڑا ہے۔

معالج نے کہا کہ ایک پیشہ ور کے طور پر میں بتا سکتا ہوں کہ آپ کے پیٹ کا حجم اوسط سے تھوڑا بڑا ہے اور یہ 30 سے ​​40 فیصد بڑا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا امکان ہے کہ آپ کے جذب، ہاضمے اور اخراج کی صلاحیتیں حیرت انگیز طور پر موثر ہیں۔

زویانگ کو ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کا باڈی ماس انڈیکس 17.

5 ہے جو ان کو کم وزن کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے، پھر بھی ان کا معدہ زیادہ تر بالغ مردوں سے بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی بڑی آنت بھی صاف تھی کوئی پولپس نہیں اور کوئی سوزش نہیں تھی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن لوگوں کو زیادہ مقدار میں کھانا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے ان کے بلڈ شوگر کی سطح اکثر بلند ہوتی ہے لیکن آپ کی 6 ماہ کی اوسط صرف 5.2 فیصد تھی جس کا مطلب ہے کہ آپ یا تو اپنے بلڈ شوگر کو منظم کنٹرول میں رکھنے کے لیے کافی ورزش کرتی ہیں یا آپ کا لبلبہ کافی مقدار میں انسولین پیدا کر رہا ہے تاکہ اسے بہت زیادہ کھانے کے بعد کنٹرول کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: کیا معدے کی سوزش صرف خوراک میں زہر کے باعث ہوتی ہے؟

اپنے چیک اپ کے اختتام پر زویانگ نے کہا کہ وہ بھوک سے مر رہی ہیں لہٰذا انہوں نے فوری طور پر ایک چینی ریستوران میں ڈھیر سارا کھانا کھانے پہنچ گئیں لیکن اس تھوڑے سے راستے کے لیے بھی انہوں نے ایک بیکری سے کچھ روٹیاں خرید لی تھیں جو جلدی جلدی کھاکر ریستوران میں باقائدہ کھانا کھانے پہنچیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنوبی کوریا کی یوٹیوبر زویانگ زویانگ کی حیرت انگیز خوراک معروف یوٹیوبر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: معروف یوٹیوبر انہوں نے ہیں اور کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری