فائل فوٹو

وزیراعظم شہباز شریف نے پاور اسمارٹ ایپ کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔

وزارتِ پاورڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیچر صارفین کو مقررہ تاریخ پر میٹر کی تصویر لے کر ایپ پر اپلوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، اس کی بنیاد پر ان کا ماہانہ بل جاری کیا جائے گا۔

اس ایپ کا مقصد اوور بلنگ، ریڈنگ کی غلطیوں، ریڈنگ میں تاخیر جیسے مسائل کا حل فراہم کرنا ہے۔

عوامی ردعمل کا خوف، میٹر ریڈرز کا ریڈنگ کے لیے جانے سے انکار

کراچیملک بھر میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف شدید.

..

صارف مقررہ دن پر ریڈنگ فراہم کر دیں تو اس کے بعد میٹر ریڈر کی ریڈنگ کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔

صارفین اپنے بل پر نظر رکھ سکیں گے بلکہ وہ ریڈنگ کے عمل کے نگہبان بھی ہوں گے، یہ نظام اُن صارفین کے لیے فائدہ مند ہے جو حکومتی سبسڈی کے مستحق ہیں جیسا کہ200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والےصارفین کا بل تقریباً 2 ہزار 330 روپے ہوتا ہے اور صرف ایک یونٹ کے اضافے پر سبسڈی ختم ہونے کے باعث بل8 ہزار 104روپے تک جا پہنچتا ہے۔

اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر صارف اور میٹر ریڈر دونوں ریڈنگ اپ لوڈ کریں تو کم ریڈنگ کو ترجیح دی جائے گی۔

ایپ کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا کہ مستحقین بروقت ریڈنگ فراہم کر کے سبسڈی سے مستفید ہوتے رہیں، صرف صارف کی فراہم کردہ ریڈنگ ہی فیڈ کی جائے گی۔

اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ" جیسے فیچرز بجلی کے نظام میں شفافیت پیدا کریں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان