وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال ایک ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ پاکستان کو ملے گا، اس سال پانڈا بانڈ جاری کریں گے، آئندہ سال انٹرنیشنل مارکیٹ کا رخ کریں گے، 30 جون تک اسٹیٹ بینک کے مالی ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ کا نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، بریفنگ میں وزیر خزانہ نے کہا کہ دو سال میں ترسیلاتِ زر میں 10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا، ترسیلاتِ زر اس سال 38 ارب ڈالر تک ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور آئی ایم ایف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھانے پر ایک پیج پر ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 700 ارب سے زائد کا اضافہ کیا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے سستے قرضے دیں گے، قومی ایئرلائن کی نج کاری میں تمام رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں۔

بریفنگ کے دوران اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا انکم ٹیکس آرڈیننس میں ٹیکس گزار کو گرفتار کرنے کی بات کی گئی ہے، گرفتاریاں پھر سب کی ہونگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ارب ڈالر نے کہا

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ