Express News:
2026-06-03@03:47:22 GMT

فن، محبت اور غزل کا نام مہدی حسن کو بچھڑے 13 سال بیت گئے

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

لاہور:

غزل کی محفل ہو یا فلمی پردہ، جہاں آواز تھم جائے، وہاں مہدی حسن کی گونج سنائی دیتی ہے۔ آج شہنشاہ غزل کی 13 ویں برسی ہے، مگر ان کی مدھر آواز آج بھی اہل دل کے کانوں میں رس گھولتی ہے۔

18 جولائی 1927کو راجستھان کے سنگیت سے مہکتے ایک کنبے میں ایک بچہ پیدا ہوا، جو آنے والے برسوں میں گائیکی کا شہنشاہ کہلایا۔مہدی حسن کے نام سے مشہورآواز کے اس جادوگر نے 8 برس کی عمر میں گلوکاری کا آغاز کیا، بعد ازاں تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی۔

1957 میں مہدی حسن نے کراچی ریڈیو پاکستان سے باقاعدہ گلوکاری کا آغاز کیا، اور اپنی مدھر آواز سے سننے والوں کو گرویدہ بنا لیا۔

1962 میں فلم ”فرنگی“ کے لیے گائی گئی غزل ”گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے“ نے انہیں شہرت کی بلندیاں عطا کیں، اور پھر وہ فن کی دنیا میں ایک نئی شناخت بن گئے۔

مہدی حسن نے چار دہائیوں پر محیط اپنے تابناک کیریئر میں 25 ہزار سے زائد فلمی و غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔انہیںمشکل راگوں پربھی کمال گرفت حاصل تھی۔

مہدی حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس جیسے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا۔

1999 میں سانس کی تکلیف کے باعث انہوں نے گانا ترک کر دیا اور پھر بارہ برس تک علالت میں مبتلا رہنے کے بعد 13 جون 2012 کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔

غزل کو کلاسیکی رنگ اور ادبی وقار عطا کرنے والے مہدی حسن کی آواز آج بھی فن، ادب اور محبت کے متوالوں کے دلوں میں زندہ ہے۔میاں اصغر سلیمی ایکسپریس نیوز لاہور

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ