ایرانی سپریم لیڈر نے جنرل محمد پاکپور کو پاسداران انقلاب کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور کو پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری جنرل حسین سلامی کی اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت کے بعد کی گئی ہے۔
یہ اعلان سپریم لیڈر کے دفتر سے جاری باقاعدہ فرمان کے ذریعے کیا گیا، جو سرکاری میڈیا پر نشر ہوا۔ تقرری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب خطے میں اسرائیل کے وسیع فضائی حملوں کے باعث شدید کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔ ان حملوں میں ایران کے متعدد فوجی اور جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن کے نتیجے میں کئی اعلیٰ کمانڈر اور سائنس دان جاں بحق ہوئے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی جارحیت پر ایران کا انتباہ: ‘صیہونی حکومت کو بھاری قیمت چکانا ہوگی’
جنرل محمد پاکپور اس سے قبل پاسداران انقلاب کی زمینی فورسز کے کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور خطے میں ایران کی عسکری حکمت عملی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، خصوصاً عراق اور شام میں ان کا عملی کردار نمایاں رہا ہے۔
Following the martyrdom of Lt.
— Tasnim News Agency (@Tasnimnews_EN) June 13, 2025
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ آپ کی عسکری وابستگی، تجربہ اور پاسدارانِ انقلاب کی اسٹریٹجک ضروریات سے واقفیت کے پیشِ نظر، میں آپ کو پاسداران انقلاب کا نیا سربراہ مقرر کرتا ہوں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا نے جنرل حسین سلامی کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ سلامی 2019 سے پاسداران انقلاب کے سربراہ تھے اور ایران کی مزاحمتی فوجی پالیسی کا مرکزی چہرہ سمجھے جاتے تھے۔ ان کے ہمراہ میجر جنرل غلام علی رشید اور جوہری سائنس دان ڈاکٹر فریدون عباسی بھی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے، جسے ایران کی سیکیورٹی قیادت کے لیے سنگین دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران پاسداران انقلاب اسلامی جنرل حسین سلامی جنرل محمد پاکپور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران پاسداران انقلاب اسلامی جنرل حسین سلامی جنرل محمد پاکپور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای پاسداران انقلاب سپریم لیڈر
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔