سی ڈی اے کا انجینئر ز ہائوسنگ سکیم کے لے آئوٹ پلان میں بے قاعدگیوں کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
سی ڈی اے کا انجینئر ز ہائوسنگ سکیم کے لے آئوٹ پلان میں بے قاعدگیوں کا نوٹس WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )وفاقی ترقیاتی ادارے کی جانب سے انجینئر ز ہائوسنگ سکیم کے لے آئوٹ پلان میں بے قاعدگیوں ،ڈیٹا کی عدم فراہمی پر شوکاز نوٹس جاری کر دیاگیا۔ڈائریکٹر انجینئر ز ہائوسنگ سکیم عارف شیخ کے نام پر جاری شوکاز نوٹس کے متن کے مطابق سی ڈی اے نے 2008میں 1156کنال پر مشتمل انجینئر ز ہائوسنگ سکیم کا لے آئوٹ پلان منظور کیا،جو کہ زون 2،ڈی 16اور ڈی 17میں واقع ہے۔لے آئوٹ پلان کے تحت سکیم کا ڈیولپمنٹ پلان 2014میں مکمل ہونا تھا
،متعلقہ سپانسر کمپنی کو سوسائٹی کے این او سی کے تحت شرائط پر عمل درآمد کیلئے متعدد نوٹس بھیجے گئے مگر احکامات کی تعمیل نہیں کی گئی،شوکاز نوٹس میں سوسائٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ 15دن میں تمام درکار ڈیٹا فراہم کیا جائے،سی ڈی اے نے شوکاز نوٹس میں عندیہ دیا ہے کہ اگر 15دن میں تمام تر تفصیلات فراہم نہیں کی جاتیں تو سوسائٹی کا این او سی ،لے آئوٹ پلان منسوخ یا معغطل کر دیا جائے گا۔سی ڈی اے نے سوسائٹی میں بے قاعدگیوں کا کیس ایف آئی اے یا نیب کو بھیجنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجب چینی مارکیٹ کی بات آتی ہے، تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ “انہیں اس بس میں سوار ہونا ہے” بھارت کی جانب سے آئی ایم ایف فنڈنگ روکنے کی ایک اور کوشش ناکام بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار اور دھڑوں میں تقسیم سندھ کا 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ گردوں کے ڈائلیسس کی دوا بارے گمرہ کن دعوے ،، فارما کمپنی کو 20 لاکھ جرمانہ ،، کونسی کمپنی کو جرمانہ ہوا، کسی دوائی... ایران کے پاس وقت کم ہے، ورنہ کچھ نہیں بچے گا، ٹرمپ کی دھمکی خیبر پختونخوا میں بجٹ اجلاس کے معاملے پر حکومت اور گورنر آمنے سامنے آ گئے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انجینئر ز ہائوسنگ سکیم میں بے قاعدگیوں سی ڈی اے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :